قربانی کا گوشت غیر مسلم کو دینا — قرآن و حدیث کی روشنی میں —
❓ سوال — کیا غیر مسلم کو قربانی کا گوشت دیا جا سکتا ہے؟
یہ ایک اہم فقہی سوال ہے جو بہت سے مسلمانوں کے ذہن میں آتا ہے — خاص طور پر وہ لوگ جو غیر مسلم ممالک میں رہتے ہیں یا جن کے غیر مسلم پڑوسی ہیں۔ آئیں دیکھتے ہیں کہ قرآن و حدیث اور فقہاء کرام نے اس بارے میں کیا فرمایا ہے۔
قربانی کا گوشت غیر مسلم کو دینا جائز ہے — خاص طور پر پڑوسی، دوست یا تالیفِ قلب (محبت بڑھانے) کی نیت سے — بشرطیکہ وہ غیر مسلم اسلام کا دشمن نہ ہو۔
📖 قرآنی آیات — قربانی کا گوشت کسے دیں
🔸 آیت نمبر 1 — فقیر کو کھلاؤ
🔸 آیت نمبر 2 — امیر و غریب دونوں کو کھلاؤ
ان دونوں آیات میں اللہ تعالیٰ نے قربانی کے گوشت کو کھانے اور کھلانے کا حکم دیا ہے — "فقیر" اور "محتاج" کے الفاظ عام ہیں جن میں مسلم اور غیر مسلم دونوں شامل ہو سکتے ہیں۔
📜 احادیث مبارکہ — پڑوسی کا حق
🔸 حدیث نمبر 1 — یہودی پڑوسی کو گوشت بھیجنا
🔸 حدیث نمبر 2 — پڑوسی کا حق
🔸 حدیث نمبر 3 — غیر مسلموں سے حسن سلوک
🏛️ فقہاء کرام کا موقف
✅ جمہور فقہاء کی رائے
جمہور فقہاء کرام کے نزدیک قربانی کا گوشت غیر مسلم کو دینا جائز ہے — کیونکہ قربانی ایک عبادت اور تقرب الٰہی ہے لیکن اس کا گوشت خیرات کی طرح ہے جو کسی کو بھی دی جا سکتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ زیادہ تر مسلمانوں کو دیا جائے۔
📌 تالیف قلب کی نیت
سورۃ التوبہ آیت 60 کے تحت علماء نے فرمایا ہے کہ اگر غیر مسلم سے محبت بڑھانے، اسلام کی طرف مائل کرنے یا اچھے تعلقات کی نیت سے گوشت دیا جائے تو نہ صرف جائز بلکہ مستحسن بھی ہے۔
⚖️ کن غیر مسلموں کو دینا جائز ہے
جائز ہے
وہ غیر مسلم جو اسلام کے دشمن نہیں — پڑوسی، دوست، ہم کار، محتاج غیر مسلم۔
تالیف قلب
جس غیر مسلم کو اسلام کی طرف مائل کرنا مقصد ہو — یہ نیکی کا ذریعہ ہے۔
غیر مسلم پڑوسی
پڑوسی چاہے مسلم ہو یا غیر مسلم — اس کا حق احادیث سے ثابت ہے۔
جائز نہیں
وہ غیر مسلم جو اسلام اور مسلمانوں کے کھلے دشمن ہوں — انہیں دینا مکروہ ہے۔
🍖 قربانی کے گوشت کی تقسیم کا سنت طریقہ
فقہاء کرام نے قربانی کے گوشت کی تقسیم کا بہترین طریقہ یہ بتایا ہے:
⭐ تین حصے کرنا مستحب ہے
گوشت کو تین برابر حصوں میں تقسیم کریں: ایک تہائی خود کھائیں، ایک تہائی رشتہ داروں اور دوستوں کو، اور ایک تہائی غریبوں اور محتاجوں کو — اس میں غیر مسلم محتاج بھی شامل ہو سکتا ہے۔
قربانی کا گوشت فروخت نہیں کیا جا سکتا — یہ صدقہ اور تقرب الٰہی کی نیت سے دیا جاتا ہے۔ قصاب کو اجرت بھی گوشت کی بجائے نقد دیں۔
❓ عام سوالات
جی ہاں، اگر وہ اسلام کے دشمن نہیں تو دینا جائز ہے — خاص طور پر پڑوسی یا محتاج ہو تو مستحسن بھی ہے۔
نہیں، واجب نہیں — لیکن پڑوسی کا حق ادا کرنے اور تالیف قلب کی نیت سے دینا مستحسن ہے۔
جی ہاں، جائز ہے — خواہ وہاں غیر مسلم ہوں یا مسلمان، فقیر اور محتاج کا حق ادا کرنا اہم ہے۔
جی ہاں، قربانی کا وقت عید الاضحی (10 ذوالحجہ) سے شروع ہو کر 12 ذوالحجہ تک ہے — اس وقت کے باہر قربانی نہیں ہوتی۔
Dar Ul Huda Academy
Learn Quran Online with Qualified Tutors
FREE
TRIAL
Limited-time offer — start your free trial class today