بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
Ashura Ka Roza Rakhne Ki Fazilat Aur Tariqa
Ashura Ka Roza Rakhne Ki Fazilat Aur Tariqa

 

عاشورہ کا روزہ فضیلت اور طریقہ - یوم عاشورہ 10 محرم

عاشورہ کا روزہ — فضیلت اور طریقہ

محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا اور انتہائی محترم مہینہ ہے، اور اس کا دسواں دن "یومِ عاشورہ" کہلاتا ہے۔ اہلسنت و الجماعت کے نزدیک اس دن کا روزہ رکھنا نہایت فضیلت والا عمل اور سنتِ رسول ﷺ ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں عاشورہ کے روزے کی فضیلت، صحیح طریقہ، تاریخ اور اس سے جڑی غلط فہمیوں کا ازالہ تفصیل سے بیان کریں گے۔

عاشورہ کیا ہے؟

لفظ "عاشورہ" عربی زبان کے لفظ "عشرہ" سے بنا ہے جس کا معنی "دس" ہے، یعنی محرم الحرام کا دسواں دن۔ اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات دی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے جب مدینہ منورہ میں یہود کو اس دن روزہ رکھتے دیکھا تو آپ ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ ﷺ الْمَدِينَةَ، وَجَدَهُمْ يَصُومُونَ يَوْمًا، يَعْنِي عَاشُورَاءَ، فَقَالُوا: هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ، وَهُوَ يَوْمٌ نَجَّى اللهُ فِيهِ مُوسَى حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ لوگ ایک دن (عاشورہ) کا روزہ رکھتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ یہ ایک عظیم دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی تھی۔ (صحیح بخاری: 2004)

عاشورہ 2026 کی تاریخ

سال 1448 ہجری بمطابق 2026 عیسوی میں، رویتِ ہلال کمیٹی پاکستان کے اعلان کے مطابق 9 محرم الحرام بروز جمعرات 25 جون 2026، اور 10 محرم الحرام یعنی یومِ عاشورہ بروز جمعہ 26 جون 2026 کو متوقع ہے۔ (واضح رہے کہ چاند کی رویت کے باعث تاریخ میں ایک دن کا فرق ممکن ہے، لہٰذا اپنے علاقے کی مساجد اور علماء سے تصدیق ضرور کریں۔)

دن تاریخ ہجری تاریخ بمطابق
تاسوعہ (9 محرم) 9 محرم 1448ھ 25 جون 2026 (جمعرات)
عاشورہ (10 محرم) 10 محرم 1448ھ 26 جون 2026 (جمعہ)
11 محرم (احتیاطی روزہ) 11 محرم 1448ھ 27 جون 2026 (ہفتہ)

روزہ عاشورہ کی فضیلت

عاشورہ کا روزہ صرف ایک عام نفلی روزہ نہیں بلکہ اس کے فضائل احادیث مبارکہ میں واضح طور پر بیان ہوئے ہیں۔ ذیل میں چند اہم احادیث ملاحظہ فرمائیں:

صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، أَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عاشورہ کے دن کا روزہ، مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے گزشتہ سال کے گناہ معاف فرما دے گا۔ (صحیح مسلم: 1162)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عاشورہ کا روزہ گزشتہ ایک سال کے صغیرہ گناہوں کے کفارے کا ذریعہ بنتا ہے، ان شاءاللہ۔ یہی وجہ ہے کہ اہلسنت کے علماء اس روزے کی بہت تاکید فرماتے ہیں۔

فائدہ: امام نووی رحمہ اللہ اور دیگر محدثین نے لکھا ہے کہ عرفہ کے روزے سے دو سال کے، اور عاشورہ کے روزے سے ایک سال کے گناہوں کی معافی کی امید رکھی جاتی ہے، اور یہ معافی صرف صغیرہ (چھوٹے) گناہوں کے لیے ہے، کبیرہ گناہوں کی معافی کے لیے توبہ ضروری ہے۔

کتنے روزے رکھے جائیں؟ — یہود سے امتیاز کی سنت

نبی کریم ﷺ نے صرف 10 محرم کا روزہ رکھنے کو کافی نہیں سمجھا بلکہ یہود کی مشابہت سے بچنے کے لیے ساتھ ایک اور دن کا روزہ رکھنے کی ترغیب دی۔

لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو ضرور نویں تاریخ کا (بھی) روزہ رکھوں گا۔ (صحیح مسلم: 1134)

اسی بنیاد پر علماء اہلسنت نے تین طریقے بیان فرمائے ہیں:

  • 1افضل ترین طریقہ: 9، 10 اور 11 محرم — تین روزے رکھنا۔
  • 2افضل طریقہ: 9 اور 10 محرم — دو روزے رکھنا (سب سے زیادہ احادیث سے ثابت)۔
  • 3کم از کم: صرف 10 محرم کا روزہ رکھنا — یہ بھی جائز اور باعثِ ثواب ہے۔
تنبیہ: صرف 10 محرم کا تنہا روزہ رکھنا مکروہ کہا گیا ہے کیونکہ اس میں یہود سے مشابہت کا پہلو ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ 9 محرم یا 11 محرم میں سے کوئی ایک روزہ ساتھ ملا لیا جائے۔

عاشورہ کا روزہ رکھنے کا طریقہ

عاشورہ کا روزہ رکھنے کا طریقہ بالکل عام نفلی روزے جیسا ہے، البتہ نیت اور وقت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

  • 1سحری: صبح صادق سے پہلے سحری کرنا مسنون ہے، اگرچہ سحری نہ کرنے سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔
  • 2نیت: دل میں روزے کی نیت کر لینا کافی ہے، زبان سے کہنا ضروری نہیں مگر مستحب ہے۔
  • 3روزہ: صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک کھانے، پینے اور تمام مفطرات سے بچنا۔
  • 4افطار: غروبِ آفتاب کے بعد بسم اللہ پڑھ کر افطار کرنا اور مسنون دعا پڑھنا۔

روزہ عاشورہ کی نیت

نَوَيْتُ أَنْ أَصُومَ غَدًا لِلهِ تَعَالَى مِنْ شَهْرِ مُحَرَّمٍ سُنَّةً لِرَسُولِ اللهِ ﷺ ترجمہ: میں نے نیت کی کہ کل محرم کے مہینے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے روزہ رکھوں گا۔

یاد رہے کہ نفلی روزے کی نیت رات کو بھی کی جا سکتی ہے اور دن چڑھے زوال سے پہلے بھی، بشرطیکہ صبح سے کچھ کھایا پیا نہ ہو — یہ احناف کے نزدیک نفلی روزے کی خصوصیت ہے۔

عاشورہ سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ

افسوس کہ عوام میں عاشورہ کے متعلق کچھ غیر مستند روایات اور بدعات رواج پا گئی ہیں۔ اہلسنت کے معتبر علماء کے مطابق ان سے اجتناب ضروری ہے:

یاد رکھیں:
  • عاشورہ کے دن خاص کھچڑا یا مخصوص کھانا پکانا اور اسے ضروری سمجھنا — اس کی کوئی شرعی اصل نہیں۔
  • عاشورہ کے دن غسل کرنے یا سرمہ لگانے سے بیماری نہ ہونے کا عقیدہ رکھنا — یہ بے اصل روایت ہے۔
  • عاشورہ کو خوشی یا میلے کا دن سمجھنا، یا اس کے برعکس اسے ماتم اور سینہ کوبی کا دن بنانا — دونوں رویے اہلسنت کی تعلیمات کے خلاف ہیں۔
  • اصل سنت صرف روزہ، ذکر، استغفار، صدقہ اور دعا ہے — اس سے زائد رسومات میں احتیاط لازم ہے۔

عاشورہ کے دن کے مسنون اعمال

اہلسنت والجماعت کے علماء کے مطابق عاشورہ کے دن یہ اعمال مستحب اور باعثِ برکت ہیں:

عمل تفصیل
روزہ 9،10 (اور ممکن ہو تو 11) محرم کا روزہ رکھنا
صدقہ و خیرات غرباء، یتیموں اور مساکین کی مدد کرنا
کثرت سے استغفار گناہوں کی معافی کے لیے توبہ و استغفار کرنا
صلہ رحمی رشتہ داروں سے حسنِ سلوک اور تعلقات بہتر کرنا
درودِ پاک نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجنا
یتیموں کی سرپرستی یتیم بچوں کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھنا اور خبرگیری کرنا
یاد رہے: اس دن کا اصل پیغام صبر، شکر اور اللہ کی طرف رجوع ہے — جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فرعون سے نجات اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر مظلوم کی دعا سننے والا اور مشکل وقت میں مدد فرمانے والا ہے۔

اہم سوالات و جوابات (FAQs)

سوال: کیا عاشورہ کا روزہ فرض ہے؟ جواب: نہیں، یہ فرض نہیں بلکہ نفلی اور سنت روزہ ہے جو نبی کریم ﷺ کی پیروی میں رکھا جاتا ہے۔
سوال: اگر صرف 10 محرم کا ہی روزہ رکھ سکیں تو کیا یہ کافی ہے؟ جواب: جی ہاں، یہ بھی جائز اور باعثِ اجر ہے، البتہ ساتھ 9 یا 11 محرم کا روزہ ملانا افضل اور زیادہ بہتر ہے۔
سوال: کیا عورتیں بھی عاشورہ کا روزہ رکھ سکتی ہیں؟ جواب: جی ہاں، البتہ ایامِ مخصوصہ (حیض) کی حالت میں روزہ رکھنا جائز نہیں، بعد میں اس کی قضا کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ نفلی روزہ ہے۔
سوال: محرم میں شادی کرنا یا خوشی کی تقریب منانا منع ہے؟ جواب: شرعاً اس کی ممانعت ثابت نہیں، البتہ بعض علاقوں میں رسماً احتیاط برتی جاتی ہے — یہ علاقائی روایت ہے، شرعی حکم نہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں عاشورہ کے روزے کی فضیلت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے گزشتہ گناہوں کو معاف فرمائے، آمین۔