عاشورہ کا روزہ — فضیلت اور طریقہ
محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا اور انتہائی محترم مہینہ ہے، اور اس کا دسواں دن "یومِ عاشورہ" کہلاتا ہے۔ اہلسنت و الجماعت کے نزدیک اس دن کا روزہ رکھنا نہایت فضیلت والا عمل اور سنتِ رسول ﷺ ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں عاشورہ کے روزے کی فضیلت، صحیح طریقہ، تاریخ اور اس سے جڑی غلط فہمیوں کا ازالہ تفصیل سے بیان کریں گے۔
اس آرٹیکل میں شامل عنوانات
عاشورہ کیا ہے؟
لفظ "عاشورہ" عربی زبان کے لفظ "عشرہ" سے بنا ہے جس کا معنی "دس" ہے، یعنی محرم الحرام کا دسواں دن۔ اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات دی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے جب مدینہ منورہ میں یہود کو اس دن روزہ رکھتے دیکھا تو آپ ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
عاشورہ 2026 کی تاریخ
سال 1448 ہجری بمطابق 2026 عیسوی میں، رویتِ ہلال کمیٹی پاکستان کے اعلان کے مطابق 9 محرم الحرام بروز جمعرات 25 جون 2026، اور 10 محرم الحرام یعنی یومِ عاشورہ بروز جمعہ 26 جون 2026 کو متوقع ہے۔ (واضح رہے کہ چاند کی رویت کے باعث تاریخ میں ایک دن کا فرق ممکن ہے، لہٰذا اپنے علاقے کی مساجد اور علماء سے تصدیق ضرور کریں۔)
| دن | تاریخ ہجری | تاریخ بمطابق |
|---|---|---|
| تاسوعہ (9 محرم) | 9 محرم 1448ھ | 25 جون 2026 (جمعرات) |
| عاشورہ (10 محرم) | 10 محرم 1448ھ | 26 جون 2026 (جمعہ) |
| 11 محرم (احتیاطی روزہ) | 11 محرم 1448ھ | 27 جون 2026 (ہفتہ) |
روزہ عاشورہ کی فضیلت
عاشورہ کا روزہ صرف ایک عام نفلی روزہ نہیں بلکہ اس کے فضائل احادیث مبارکہ میں واضح طور پر بیان ہوئے ہیں۔ ذیل میں چند اہم احادیث ملاحظہ فرمائیں:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عاشورہ کا روزہ گزشتہ ایک سال کے صغیرہ گناہوں کے کفارے کا ذریعہ بنتا ہے، ان شاءاللہ۔ یہی وجہ ہے کہ اہلسنت کے علماء اس روزے کی بہت تاکید فرماتے ہیں۔
کتنے روزے رکھے جائیں؟ — یہود سے امتیاز کی سنت
نبی کریم ﷺ نے صرف 10 محرم کا روزہ رکھنے کو کافی نہیں سمجھا بلکہ یہود کی مشابہت سے بچنے کے لیے ساتھ ایک اور دن کا روزہ رکھنے کی ترغیب دی۔
اسی بنیاد پر علماء اہلسنت نے تین طریقے بیان فرمائے ہیں:
- 1افضل ترین طریقہ: 9، 10 اور 11 محرم — تین روزے رکھنا۔
- 2افضل طریقہ: 9 اور 10 محرم — دو روزے رکھنا (سب سے زیادہ احادیث سے ثابت)۔
- 3کم از کم: صرف 10 محرم کا روزہ رکھنا — یہ بھی جائز اور باعثِ ثواب ہے۔
عاشورہ کا روزہ رکھنے کا طریقہ
عاشورہ کا روزہ رکھنے کا طریقہ بالکل عام نفلی روزے جیسا ہے، البتہ نیت اور وقت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
- 1سحری: صبح صادق سے پہلے سحری کرنا مسنون ہے، اگرچہ سحری نہ کرنے سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔
- 2نیت: دل میں روزے کی نیت کر لینا کافی ہے، زبان سے کہنا ضروری نہیں مگر مستحب ہے۔
- 3روزہ: صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک کھانے، پینے اور تمام مفطرات سے بچنا۔
- 4افطار: غروبِ آفتاب کے بعد بسم اللہ پڑھ کر افطار کرنا اور مسنون دعا پڑھنا۔
روزہ عاشورہ کی نیت
یاد رہے کہ نفلی روزے کی نیت رات کو بھی کی جا سکتی ہے اور دن چڑھے زوال سے پہلے بھی، بشرطیکہ صبح سے کچھ کھایا پیا نہ ہو — یہ احناف کے نزدیک نفلی روزے کی خصوصیت ہے۔
عاشورہ سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ
افسوس کہ عوام میں عاشورہ کے متعلق کچھ غیر مستند روایات اور بدعات رواج پا گئی ہیں۔ اہلسنت کے معتبر علماء کے مطابق ان سے اجتناب ضروری ہے:
- عاشورہ کے دن خاص کھچڑا یا مخصوص کھانا پکانا اور اسے ضروری سمجھنا — اس کی کوئی شرعی اصل نہیں۔
- عاشورہ کے دن غسل کرنے یا سرمہ لگانے سے بیماری نہ ہونے کا عقیدہ رکھنا — یہ بے اصل روایت ہے۔
- عاشورہ کو خوشی یا میلے کا دن سمجھنا، یا اس کے برعکس اسے ماتم اور سینہ کوبی کا دن بنانا — دونوں رویے اہلسنت کی تعلیمات کے خلاف ہیں۔
- اصل سنت صرف روزہ، ذکر، استغفار، صدقہ اور دعا ہے — اس سے زائد رسومات میں احتیاط لازم ہے۔
عاشورہ کے دن کے مسنون اعمال
اہلسنت والجماعت کے علماء کے مطابق عاشورہ کے دن یہ اعمال مستحب اور باعثِ برکت ہیں:
| عمل | تفصیل |
|---|---|
| روزہ | 9،10 (اور ممکن ہو تو 11) محرم کا روزہ رکھنا |
| صدقہ و خیرات | غرباء، یتیموں اور مساکین کی مدد کرنا |
| کثرت سے استغفار | گناہوں کی معافی کے لیے توبہ و استغفار کرنا |
| صلہ رحمی | رشتہ داروں سے حسنِ سلوک اور تعلقات بہتر کرنا |
| درودِ پاک | نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجنا |
| یتیموں کی سرپرستی | یتیم بچوں کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھنا اور خبرگیری کرنا |
اہم سوالات و جوابات (FAQs)
اللہ تعالیٰ ہمیں عاشورہ کے روزے کی فضیلت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے گزشتہ گناہوں کو معاف فرمائے، آمین۔