بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کی ایمان افروز داستان
حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کی ایمان افروز داستان

 ایمان کی ایک عظیم داستان جو بہت کم لوگوں نے سنی ہوگی: حضرت عبداللہ بن حذافہ (رضی اللہ عنہ)



تاریخِ اسلام میں ایسے کئی عظیم صحابہ (رضی اللہ عنہم) گزرے ہیں جنہوں نے دینِ حق کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ ان میں سے ایک ایمان افروز واقعہ حضرت عبداللہ بن حذافہ (رضی اللہ عنہ) کا ہے۔

واقعہ کا پس منظر

یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب مسلمانوں اور رومی سلطنت کے درمیان جنگ جاری تھی۔ اس معرکے کے دوران، حضرت عبداللہ بن حذافہ (رضی اللہ عنہ) کو رومی فوجیوں نے گرفتار کر لیا اور انہیں اپنے بادشاہ (قیصرِ روم) کے سامنے پیش کیا۔

بادشاہ نے جب عبداللہ (رضی اللہ عنہ) کے چہرے پر موجود نور اور ان کی آنکھوں میں جھلکتی ہوئی خود اعتمادی دیکھی، تو وہ بہت متاثر ہوا۔ اس نے سوچا کہ یہ عام آدمی نہیں ہے، لہذا اس نے انہیں اسلام سے برگشتہ کرنے اور عیسائی مذہب اپنانے کے لیے لالچ دینے کا فیصلہ کیا۔

بادشاہ کی پیشکش اور ایمان کی مضبوطی

بادشاہ نے عبداللہ (رضی اللہ عنہ) سے کہا:

"اگر تم اپنا مذہب چھوڑ دو اور میرے مذہب (عیسائیت) کو قبول کر لو، تو میں تمہیں اپنی آدھی سلطنت کا شریک بنا لوں گا اور تمہیں بہت دولت دوں گا۔"

حضرت عبداللہ بن حذافہ (رضی اللہ عنہ) نے مسکرا کر اور انتہائی وقار کے ساتھ جواب دیا:

"اے بادشاہ! اگر تو مجھے اپنی پوری سلطنت اور عرب کے تمام بادشاہوں کی دولت بھی دے دے، تب بھی میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین کو لمحہ بھر کے لیے بھی نہیں چھوڑوں گا۔"

بادشاہ کا غصہ اور آزمائش

بادشاہ یہ جواب سن کر آگ بگولہ ہو گیا۔ اس نے انہیں طرح طرح کی دھمکیاں دیں، یہاں تک کہ انہیں ایک بڑی کڑاہی کے پاس لے جایا گیا جس میں تیل کھول رہا تھا۔ بادشاہ نے کہا:

"اب بھی وقت ہے، یا تو مذہب بدل لو یا اس کھولتے ہوئے تیل میں کود جاؤ!"

یہ منظر دیکھ کر حضرت عبداللہ (رضی اللہ عنہ) کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ بادشاہ کو لگا کہ شاید اب یہ ڈر گئے ہیں اور مذہب بدلنے کے لیے تیار ہیں۔ اس نے پوچھا: "کیا اب تم مذہب بدل رہے ہو؟"

عبداللہ (رضی اللہ عنہ) نے جو جواب دیا، وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا گیا ہے:

"نہیں، میں اس لیے نہیں رو رہا کہ میں موت سے ڈر گیا ہوں۔ میں تو اس لیے رو رہا ہوں کہ افسوس! میرے پاس صرف ایک جان ہے جسے میں اللہ کی راہ میں قربان کر سکتا ہوں۔ کاش! میرے پاس اپنے بالوں کی تعداد کے برابر جانیں ہوتیں اور میں ہر بار اللہ کی راہ میں شہید ہوتا۔"

انجام اور رہائی

بادشاہ ان کے ایمان کی مضبوطی اور حوصلہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ سمجھ گیا کہ اس شخص کو کسی بھی لالچ یا دھمکی سے نہیں دبایا جا سکتا۔ آخر کار، اس نے انہیں چھوڑنے کا فیصلہ کیا لیکن ایک شرط رکھی: "میں تمہیں تب چھوڑوں گا جب تم میرے سر کو چومو گے۔"

حضرت عبداللہ (رضی اللہ عنہ) نے ایک شرط رکھی: "میں ایسا تب کروں گا جب تم میرے ساتھ قید کیے گئے تمام مسلمان ساتھیوں کو بھی رہا کر دو گے۔" بادشاہ اس شرط پر راضی ہو گیا۔ حضرت عبداللہ (رضی اللہ عنہ) نے بادشاہ کے سر کو چوما اور اپنے تمام ساتھیوں کو لے کر صحیح سلامت واپس آ گئے۔

اس کہانی سے حاصل ہونے والا سبق:

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ:

اللہ پر کامل یقین: جب انسان کا ایمان پکا ہو، تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی اسے نہیں ہرا سکتی۔

سچی کامیابی: دنیاوی دولت عارضی ہے، اصل کامیابی دینِ اسلام پر استقامت اور اللہ کی رضا حاصل کرنے میں ہے۔

عزم و ہمت: حق کے راستے پر چلتے ہوئے اگر جان بھی دینی پڑے، تو وہ بزدلی نہیں بلکہ سعادت ہے۔