حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ
الفاروق — حق اور باطل میں فرق کرنے والے رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَرْضَاهُ🏠 مختصر تعارف اور نسب مبارک
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا تعلق قریش کے قبیلہ بنو عدی سے تھا۔ قبول اسلام سے پہلے آپ اسلام کے سخت مخالف تھے — لیکن جب اللہ نے ہدایت عطا فرمائی تو آپ اسلام کی سب سے بڑی طاقت بن گئے۔ نبیٔ کریم ﷺ نے آپ کو الفاروق کا لقب عطا فرمایا کیونکہ آپ کے قبول اسلام کے بعد اللہ نے حق اور باطل کے درمیان فرق ظاہر فرما دیا۔
⚡ قبول اسلام — ایمان لانے کا واقعہ
📚 واقعہ کا پس منظر
نبوت کے 6ویں سال حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبیٔ کریم ﷺ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور تلوار لے کر نکلے۔ راستے میں معلوم ہوا کہ ان کی اپنی بہن حضرت فاطمہ بنت خطاب رضی اللہ عنہا اور بہنوئی حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ اسلام قبول کر چکے ہیں۔
آپ رضی اللہ عنہ سیدھے بہن کے گھر پہنچے۔ وہاں صحابی حضرت خباب رضی اللہ عنہ قرآن پڑھا رہے تھے۔ آپ نے غصے میں بہنوئی کو مارا اور بہن کو بھی زخمی کیا۔ پھر جب بہن کے منہ سے خون بہتا دیکھا تو دل پر گہرا اثر ہوا اور قرآن کی آیات سننے کی خواہش ہوئی۔
💕 قرآن سن کر دل بدل گیا
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سورۃ طٰہٰ کی آیات پڑھ کر سنائیں۔ قرآن کے الفاظ سنتے ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دل پگھل گیا۔ آپ نے فرمایا: "مجھے نبی ﷺ کے پاس لے چلو۔" اور سیدھے دارِ ارقم پہنچے جہاں نبیٔ کریم ﷺ موجود تھے۔
نبیٔ کریم ﷺ نے آپ کا سینہ پکڑا اور فرمایا: "اے عمر! کیا تم ایمان نہیں لاؤ گے؟" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فوراً کلمہ پڑھا اور اسلام قبول کر لیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے منہ سے بے اختیار تکبیر کی آواز نکلی۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کے بعد مسلمانوں نے کھل کر خانہ کعبہ کے سامنے نماز پڑھی جو پہلے ممکن نہ تھی۔ نبیٔ کریم ﷺ نے فرمایا: اللَّهُمَّ أَعِزَّ الإِسْلاَمَ بِعُمَرَ اے اللہ! عمر کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما۔
سنن ابن ماجہ: 103 | مسند احمد⭐ فضائل — صحیح بخاری و مسلم کی روشنی میں
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیٔ کریم ﷺ نے فرمایا: ابو بکر جنت میں، عمر جنت میں، عثمان جنت میں، علی جنت میں، طلحہ جنت میں، زبیر جنت میں، عبدالرحمن بن عوف جنت میں، سعد بن ابی وقاص جنت میں، سعید بن زید جنت میں اور ابو عبیدہ بن جراح جنت میں۔
جامع ترمذی: 3747 — صحیححضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبیٔ کریم ﷺ نے فرمایا: لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یعنی اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے۔
جامع ترمذی: 3686 — حسن غریبحضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیٔ کریم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ابن خطاب! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جب بھی شیطان تم کو کسی راستے پر چلتا دیکھتا ہے تو وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔
صحیح بخاری: 3683 | صحیح مسلم: 2396حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبیٔ کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ نے عمر کی زبان اور دل پر حق جاری کر دیا ہے۔ اور متعدد مواقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے قرآن کی آیات کے موافق اتری۔
جامع ترمذی: 3682 | مسند احمد💎 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نمایاں اوصاف
شجاعت و بہادری
قبول اسلام کے بعد علی الاعلان کعبہ کے سامنے نماز پڑھی، کسی کا خوف نہ کیا
عدل و انصاف
خود اپنے خاندان والوں کو بھی کوئی رعایت نہ دی، انصاف میں ذاتی تعلق نہ آنے دیا
علم و دانش
متعدد مواقع پر آپ کی رائے قرآن کی آیت کے نزول سے پہلے اس کے موافق تھی
زہد و سادگی
خلیفہ ہونے کے باوجود پیوند لگے کپڑے پہنے، سادہ زندگی بسر کی
عظیم فاتح
آپ کے دور میں ایران، عراق، شام، مصر اور فلسطین فتح ہوئے
رعایا کی فکر
رات کو خود گشت لگاتے اور غریبوں کا حال معلوم کرتے تھے
🏭 دورِ خلافت — اسلام کا سنہرا دور
🌎 عظیم فتوحات
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اسلام کو سب سے زیادہ فتوحات حاصل ہوئیں۔ ایران کی سلطنت ساسانیہ کا مکمل خاتمہ ہوا، بیت المقدس فتح ہوا اور آپ نے خود وہاں جا کر صلح کی شرائط طے کیں، مصر فتح ہوا اور شام کا بڑا علاقہ اسلامی سلطنت میں شامل ہوا۔
📈 اہم انتظامی اصلاحات
آپ رضی اللہ عنہ نے بیت المال کا باقاعدہ نظام قائم کیا۔ اسلامی کیلنڈر (ہجری سن) کا آغاز آپ کے دور میں ہوا۔ فوجی چھاونیاں (امصار) قائم کیں۔ صوبوں میں باقاعدہ قاضی مقرر کیے اور عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ رکھا — یہ تاریخ کی پہلی مثال ہے۔
📖 موافقاتِ عمر — جب قرآن نے آپ کی رائے کی تائید کی
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ایک عظیم خصوصیت یہ تھی کہ کئی مواقع پر آپ نے جو رائے دی، اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کی آیات نازل فرما کر اس کی تائید فرما دی۔ ان کو موافقاتِ عمر کہتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود فرماتے تھے کہ میں نے تین مواقع پر اپنے رب کی موافقت کی۔
1️⃣ مقامِ ابراہیم — نماز کی جگہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبیٔ کریم ﷺ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ نہ بنائیں؟ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی: وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى یعنی مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ۔
صحیح بخاری: 402 | سورۃ البقرہ: 1252️⃣ پردے کا حکم
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ازواجِ مطہرات کے پردے کے بارے میں نبیٔ کریم ﷺ سے عرض کیا۔ اس کے بعد پردے کی آیات نازل ہوئیں: يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ
صحیح بخاری: 402 | سورۃ الاحزاب: 593️⃣ اسیرانِ بدر کا معاملہ
غزوہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ انہیں قتل کیا جائے، فدیہ نہ لیا جائے۔ اس پر آیت نازل ہوئی: مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ یعنی کسی نبی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ زمین میں خوب خون نہ بہائے اور قیدی رکھے۔
صحیح مسلم: 1763 | سورۃ الانفال: 674️⃣ منافقین کی نمازِ جنازہ
جب عبداللہ بن ابی (منافق) مرا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبیٔ کریم ﷺ سے عرض کیا کہ منافقین پر نمازِ جنازہ نہ پڑھی جائے۔ اس کے بعد آیت نازل ہوئی: وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا یعنی آپ ان میں سے کسی کی نمازِ جنازہ کبھی نہ پڑھیں۔
صحیح بخاری: 1366 | سورۃ التوبہ: 84🏭 شہادت — 1 محرم 24 ہجری
اے اللہ! مجھے اپنی راہ میں شہادت عطا فرما اور میری موت اپنے نبی ﷺ کے شہر میں کر۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے شہادت کی یہ دعا مانگی اور اللہ نے قبول فرمائی۔ 26 ذوالحجہ 23 ہجری کو فجر کی نماز کے دوران ملعون قاتل ابولولو فیروز نے آپ پر خنجر سے حملہ کیا اور آپ شدید زخمی ہو گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے زخمی حالت میں بھی نماز پڑھائی اور مسلمانوں کے معاملات دیکھتے رہے۔
📅 شہادت کی تاریخ — دونوں اقوال
امام بخاری رحمہ اللہ اور اکثر محدثین کے نزدیک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت 26 ذوالحجہ 23 ہجری کو ہوئی۔ یعنی حملے اور شہادت دونوں اسی دن کے واقعات ہیں اور تین دن بعد کا حساب اسی تاریخ میں شمار ہوتا ہے۔
صحیح بخاری، فتح الباری — ابن حجر عسقلانیبعض مورخین اور محدثین کے نزدیک آپ رضی اللہ عنہ 26 ذوالحجہ کو زخمی ہوئے اور تین دن بعد 1 محرم 24 ہجری کو شہادت پائی۔ ابن سعد نے طبقات الکبریٰ میں اس قول کو ذکر کیا ہے۔
طبقات الکبریٰ — ابن سعد | البدایہ والنہایہ — ابن کثیر🛡 ملعون قاتل ابولولو فیروز — مکمل تعارف
ابولولو فیروز ایک مجوسی (آتش پرست) غلام تھا جو ایران کا رہنے والا تھا۔ یہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا اور مدینہ منورہ میں لوہار کا کام کرتا تھا۔ یہ ظاہراً اسلام قبول کر چکا تھا لیکن دل سے اسلام اور مسلمانوں کا دشمن تھا۔ ایران کی فتح اور سلطنت ساسانیہ کے خاتمے کا بدلہ لینے کے لیے اس نے یہ گھناؤنی سازش کی۔
اس ملعون نے ایک دو دھاری زہر آلود خنجر تیار کیا اور 26 ذوالحجہ کو فجر کی نماز میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا جس میں 6 مزید صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی زخمی ہوئے۔ جب گرفتاری یقینی ہوئی تو اس ملعون نے اپنے ہی خنجر سے خودکشی کر لی اور جہنم کا ایندھن بنا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شہادت سے پہلے حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم پر مشتمل چھ رکنی شوریٰ قائم کی تاکہ آپس میں مشاورت سے اگلا خلیفہ چنیں۔ یہ آپ رضی اللہ عنہ کی دور اندیشی کی بہترین مثال ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیٔ کریم ﷺ نے ایک مرتبہ احد پہاڑ پر چڑھ کر فرمایا: اے احد! ٹھہر جا کیونکہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔ اس وقت ساتھ حضرت ابو بکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم تھے۔
صحیح بخاری: 3675❓ اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فاروق کیوں کہتے ہیں؟
جواب: نبیٔ کریم ﷺ نے آپ کو الفاروق کا لقب عطا فرمایا کیونکہ آپ کے قبول اسلام کے بعد اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل کے درمیان فرق کھل کر ظاہر فرما دیا۔ آپ کے ایمان لانے سے مسلمانوں کو علی الاعلان نماز پڑھنے کی طاقت ملی۔
سوال: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کب خلیفہ بنے؟
جواب: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے وصیت میں آپ کو خلیفہ مقرر کیا۔ آپ نے 13 ہجری میں خلافت سنبھالی اور 23 ہجری میں شہادت تک 10 سال 6 ماہ خلیفہ رہے۔
سوال: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں کون سے ممالک فتح ہوئے؟
جواب: آپ کے دور خلافت میں ایران، عراق، شام، فلسطین، مصر اور آذربائیجان فتح ہوئے۔ بیت المقدس بھی آپ کے دور میں فتح ہوا اور آپ نے خود وہاں جا کر صلح کی شرائط طے کیں۔
سوال: ہجری کیلنڈر کس نے شروع کیا؟
جواب: ہجری کیلنڈر کا آغاز حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ہوا۔ آپ نے 17 ہجری میں نبیٔ کریم ﷺ کی ہجرت مدینہ کو سنہ کا نقطہ آغاز قرار دیا۔
سوال: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہاں دفن ہیں؟
جواب: آپ رضی اللہ عنہ مسجد نبوی ﷺ میں حضور نبیٔ کریم ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں مدفون ہیں۔