دجال کا جسمانی حلیہ صحیح احادیث کی روشنی میں مکمل تفصیل — قسط اول
یہ تحریر "دجال سیریز" کی پہلی قسط ہے۔ اس سیریز میں ہم قرآن، صحیح احادیث اور جہاں مناسب ہو وہاں عصر حاضر کے حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے دجال کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کریں گے۔ ہر روایت کی سند کا درجہ (صحیح، ضعیف وغیرہ) واضح طور پر بتایا جائے گا تاکہ قاری کو درست اور غلط روایت میں فرق معلوم ہو۔ آج کی قسط میں ہم دجال کے جسمانی حلیے پر تفصیل سے بات کریں گے۔
- دجال — کون اور کیا، ایک مختصر تعارف
- دجال اور قرآن — بالواسطہ اشارہ
- دجال کا بنیادی حلیہ — صحیح احادیث سے
- دائیں یا بائیں آنکھ — روایات میں بظاہر اختلاف اور اس کی توضیح
- پیشانی پر "کافر" لکھا ہونا
- حدیث تمیم داری — جزیرے میں بندھا ہوا دجال
- ابن صیاد کا واقعہ — ایک ضروری وضاحت
- عصر حاضر کا پہلو — احتیاط اور غلط فہمیوں سے بچاؤ
دجال — کون اور کیا، ایک مختصر تعارف
دجال کا ذکر احادیث نبویہ میں تفصیل سے موجود ہے۔ لفظ "دجال" عربی زبان میں "دجل" سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں دھوکہ دینا، حقیقت کو چھپا کر جھوٹ کو خوبصورت بنا کر پیش کرنا۔ اصطلاح میں دجال سے مراد وہ خاص شخص ہے جو قیامت کے قریب ظاہر ہو گا، بڑے بڑے دعوے کرے گا، خدائی کا دعویٰ کرے گا، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے کچھ غیر معمولی صلاحیتیں دی جائیں گی جن سے وہ لوگوں کو آزمائش میں ڈالے گا۔
نبی کریم ﷺ نے دجال کے فتنے کو اس قدر اہم قرار دیا کہ ہر نبی نے اپنی امت کو اس سے خبردار کیا۔ صحیح بخاری میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آدم علیہ السلام کی تخلیق سے لے کر قیامت تک دجال کے فتنے سے بڑا کوئی فتنہ نہیں ہو گا۔ اسی اہمیت کے پیش نظر ہم نے یہ سیریز شروع کی ہے — تاکہ قاری کو مستند معلومات ترتیب وار اور تفصیل سے مل سکیں، بجائے اس کے کہ وہ غیر مستند یا مبالغہ آمیز باتوں کا شکار ہو جو آج کل سوشل میڈیا پر عام ہیں۔
اس پہلی قسط کا موضوع دجال کا جسمانی حلیہ ہے — یعنی نبی کریم ﷺ نے احادیث میں اس کی شکل و صورت کے بارے میں کیا بتایا۔ یہ معلومات محض تجسس کے لیے نہیں بلکہ عملی فائدے کے لیے ہیں: تاکہ اگر کوئی جھوٹا دعویدار "میں دجال ہوں" یا کوئی فتنہ پرور "میں مسیح ہوں" کہہ کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے، تو مسلمان نبی ﷺ کی بتائی ہوئی نشانیوں کی روشنی میں حقیقت پہچان سکیں۔
دجال اور قرآن — بالواسطہ اشارہ
قرآن مجید میں دجال کا نام صراحتاً کہیں نہیں آیا، لیکن مفسرین اور محدثین نے سورۃ الکہف کو دجال کے فتنے سے گہرا تعلق رکھنے والی سورت قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ خود نبی کریم ﷺ کی حدیث ہے، جس میں سورۃ الکہف کی ابتدائی آیات کو دجال کے فتنے سے حفاظت کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔
حدیث — سورۃ کہف اور دجال سے حفاظت
علماء نے اس ربط کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ سورۃ الکہف میں چار بڑے فتنوں کا ذکر ہے جو دجال کے فتنے سے مشابہت رکھتے ہیں: اصحاب کہف کا قصہ (دین کی حفاظت کا فتنہ)، صاحب باغ کا قصہ (مال کا فتنہ)، موسیٰ و خضر علیہما السلام کا قصہ (علم کا فتنہ)، اور ذوالقرنین کا قصہ (اقتدار اور طاقت کا فتنہ)۔ دجال بھی انہی چار میدانوں — دین، مال، علم اور اقتدار — کے ذریعے لوگوں کو آزمائے گا، اسی لیے یہ سورت اس کے فتنے سے تحفظ کا ذریعہ قرار دی گئی۔
دجال کا بنیادی حلیہ — صحیح احادیث سے
نبی کریم ﷺ نے دجال کے حلیے کو نہایت وضاحت سے بیان فرمایا تاکہ امت کسی دھوکے میں نہ آئے۔ ذیل میں چند اہم اور مستند احادیث درج کی جا رہی ہیں۔
حدیث نمبر 1 — عمومی حلیہ (حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ)
حدیث نمبر 2 — آنکھ کی تفصیل (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما)
حدیث نمبر 3 — قد و قامت اور بال (حدیث نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کا حصہ)
یہ تینوں احادیث صحیحین (بخاری و مسلم) میں موجود ہیں اور محدثین کے نزدیک بلاشبہ صحیح اور معتبر ہیں۔ ان سے دجال کے حلیے کے بنیادی خدوخال واضح ہوتے ہیں: ایک آنکھ سے کانا یا بےنور، آنکھ کی ساخت ابھری ہوئی (جیسے انگور کا دانہ)، گھنگھریالے بال، اور نسبتاً جوان عمر۔
دائیں یا بائیں آنکھ — روایات میں بظاہر اختلاف اور اس کی توضیح
قارئین کے ذہن میں یہ سوال ضرور آتا ہے کہ بعض روایات میں دائیں آنکھ کا ذکر ہے تو بعض میں بائیں آنکھ کا — یہ بات محدثین کے علم میں بھی رہی ہے اور انہوں نے اس پر تفصیل سے بحث کی ہے۔
حدیث — بائیں آنکھ کا ذکر (حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ)
امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے "فتح الباری" میں اس بظاہر اختلاف پر تفصیل سے کلام کیا ہے۔ اکثر محدثین کی رائے یہ ہے کہ دائیں آنکھ والی روایت (ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) زیادہ مشہور، زیادہ طرق سے مروی اور راجح ہے، جبکہ بعض محدثین نے دونوں کو اس طرح جمع کیا ہے کہ ممکن ہے دونوں آنکھیں ہی کسی نہ کسی طرح متاثر ہوں — ایک بالکل کانی اور دوسری بھی معیوب یا کمزور۔ بہرحال دونوں روایات صحیح مسلم کی ہیں، لہٰذا یہ کوئی سنداً کمزور بات نہیں بلکہ متن میں جمع و تطبیق کا مسئلہ ہے، جو محدثین کے ہاں ایک معروف اور مانوس علمی طریقہ ہے۔ اصل اور متفقہ بات یہ ہے کہ دجال کی ایک آنکھ ضرور معیوب، بےنور یا کانی ہو گی — یہی نشانی حتمی اور مسلّمہ ہے۔
پیشانی پر "کافر" لکھا ہونا
دجال کے حلیے کی سب سے نمایاں اور یقینی نشانی اس کی پیشانی پر "کافر" (ک ف ر) لکھا ہونا ہے۔ یہ الفاظ حقیقی معنوں میں لکھے ہوئے ہوں گے، اور اللہ تعالیٰ ہر مؤمن کو یہ پڑھنے کی صلاحیت عطا فرمائے گا، چاہے وہ عام حالات میں پڑھنا لکھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو — جیسا کہ اوپر مذکور حدیث میں گزرا۔
حدیث — ہر مؤمن کے لیے یہ نشانی واضح ہو گی
اس حدیث کی اہمیت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دجال کے خدائی دعوے کے رد میں سب سے پہلے اسی جسمانی نقص کو دلیل بنایا — کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے، جبکہ دجال میں واضح جسمانی نقص ہو گا۔ یہ نکتہ عقیدے کے اعتبار سے نہایت اہم ہے: ایک ناقص، کانا اور محدود مخلوق کبھی خدا نہیں ہو سکتی۔
حدیث تمیم داری — جزیرے میں بندھا ہوا دجال
صحیح مسلم کی ایک طویل اور مشہور حدیث میں حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان ہوا ہے، جسے "حدیث جساسہ" بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں تمیم داری رضی اللہ عنہ، جو اسلام لانے سے پہلے عیسائی تھے اور سمندری سفر میں ایک پراسرار جزیرے پر پہنچے، ایک عجیب و غریب مخلوق (جساسہ) سے ملے جس نے انہیں ایک جزیرے کے اندر بندھے ہوئے ایک بہت بڑے قد کے شخص کے پاس پہنچایا۔
حدیث — دجال کی مجموعی جسامت کا بیان
اسی حدیث میں یہ عجیب و غریب شخص خود اپنے بارے میں بتاتا ہے کہ وہ "مسیح دجال" ہے، اور یہ کہ اسے قید سے رہائی کی اجازت ملے گی اور وہ زمین میں فتنہ پھیلائے گا۔ نبی کریم ﷺ نے یہ واقعہ سن کر منبر پر لوگوں کو جمع کر کے یہ حدیث سنائی اور اسے تصدیق کی نظر سے دیکھا۔ اس حدیث سے دجال کی غیر معمولی جسامت اور بندھی ہوئی حالت کا علم ہوتا ہے، جو مذکورہ بالا احادیث میں بیان کردہ چہرے کے حلیے سے مکمل مطابقت رکھتا ہے۔
ابن صیاد کا واقعہ — ایک ضروری وضاحت
نبی کریم ﷺ کے دور میں مدینہ میں ایک لڑکا "ابن صیاد" موجود تھا جس میں کچھ غیر معمولی اور مشکوک باتیں پائی جاتی تھیں، جس کی وجہ سے بعض صحابہ کرام کو یہ گمان ہوا کہ شاید یہی دجال ہے۔ نبی کریم ﷺ خود اس سے ملنے گئے اور اس سے سوالات کیے، لیکن آپ ﷺ نے کبھی حتمی طور پر یہ تصدیق نہیں فرمائی کہ وہی دجال ہے۔
حدیث — نبی ﷺ کا محتاط رویہ
یہ حدیث ہمیں ایک اہم اصول سکھاتی ہے: کسی بھی شخص یا واقعے کو بلاتحقیق دجال یا دجال سے متعلق قرار دینا نبی کریم ﷺ کے طرز عمل کے خلاف ہے۔ خود نبی ﷺ نے، باوجود اس کے کہ ابن صیاد میں کچھ عجیب باتیں تھیں، حتمی فیصلہ نہیں دیا۔ یہ اصول آج کے دور میں اور بھی اہم ہو جاتا ہے، جیسا کہ اگلے حصے میں بیان کیا جائے گا۔
عصر حاضر کا پہلو — احتیاط اور غلط فہمیوں سے بچاؤ
آج کے دور میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر دجال کے موضوع پر بہت سی ایسی تحریریں اور ویڈیوز گردش کرتی ہیں جو مستند احادیث سے آگے بڑھ کر قیاس آرائیوں، سازشی نظریات (conspiracy theories)، اور بعض اوقات مکمل من گھڑت باتوں پر مبنی ہوتی ہیں — جیسے کسی خاص کرنسی، لوگو، ٹیکنالوجی کمپنی یا عالمی تنظیم کو براہ راست "دجالی نظام" قرار دے دینا، بغیر کسی مستند دلیل کے۔ ایسی باتوں سے حتی الامکان اجتناب کرنا چاہیے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے جو کچھ بتایا ہے وہ واضح، متعین اور محدود ہے — اسے اپنی طرف سے بڑھانا یا ہر جدید چیز کو اس پر منطبق کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔
مستند رہیں
صرف صحیح بخاری، صحیح مسلم اور دیگر معتبر کتب حدیث کی روایات پر اعتماد کریں۔
قیاس سے گریز
کسی کمپنی، کرنسی یا شخصیت کو بلادلیل "دجال" یا اس کا آلہ کار قرار نہ دیں۔
سائنسی نکتہ
"عنبة طافیۃ" (ابھری ہوئی آنکھ) طبی اصطلاح میں کسی حد تک "exophthalmos" جیسی حالت سے مشابہت رکھتی ہے، لیکن دجال کا معاملہ محض طبی نہیں بلکہ ایک غیبی و خاص مخلوق کا معاملہ ہے جسے عام طبی اصطلاحات سے مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔
اصل مقصد
دجال کے حلیے کا علم خوف پھیلانے کے لیے نہیں بلکہ ایمان مضبوط کرنے اور دھوکے سے بچنے کے لیے ہے۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ خود نبی کریم ﷺ نے، جیسا کہ اوپر ابن صیاد کے واقعے میں گزرا، احتیاط اور توقف کا رویہ اختیار فرمایا۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جدید دور کے واقعات، شخصیات یا نظاموں کو دیکھ کر جلد بازی میں "یہی دجال کی نشانی ہے" کہنے سے گریز کریں، بلکہ علم کو نبی ﷺ کی بتائی ہوئی حدود میں رکھیں اور اپنے ایمان اور اعمال کی اصلاح پر توجہ دیں — کیونکہ سورۃ الکہف کی ابتدائی آیات کا حفظ اور ان پر عمل ہی وہ حقیقی تحفظ ہے جس کی ضمانت خود نبی کریم ﷺ نے دی ہے۔
Dar Ul Huda Academy
Learn Quran Online with Qualified Tutors
FREE
TRIAL
Limited-time offer — start your free trial class today