دجال کے ظہور کی نشانیاں اور وقت صحیح احادیث کی روشنی میں مکمل تفصیل — قسط دوم
پہلی قسط میں ہم نے دجال کے جسمانی حلیے پر بات کی تھی — اس کی آنکھ، پیشانی پر لکھا لفظ "کافر"، اور اس کی جسامت۔ آج کی قسط میں ہم اس کے ظہور کی نشانیوں، جگہ، وقت اور زمین پر اس کے قیام کی مدت پر تفصیل سے گفتگو کریں گے۔
دجال کہاں سے ظاہر ہو گا
احادیث میں دجال کے ظہور کی جگہ کے بارے میں دو طرح کی روایات ملتی ہیں۔ ایک روایت میں مشرق کی طرف اشارہ ہے، جبکہ دوسری صحیح روایت میں شام اور عراق کے درمیانی علاقے کا ذکر ہے۔
حدیث — شام و عراق کے درمیان سے ظہور
حدیث — خراسان کی طرف اشارہ
امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس روایت کو خود اپنی سنن میں "حسن غریب" قرار دیا ہے، یعنی یہ درجہ صحیح سے قدرے کم ہے اور اس کی سند اکیلے ایک راوی کے طریق سے مروی ہونے کی وجہ سے "غریب" کہلاتی ہے۔ بعض متاخر محدثین نے اس پر مزید کلام کیا ہے۔ چونکہ صحیح مسلم کی روایت (شام و عراق کے درمیان) زیادہ مضبوط اور معتبر ہے، اس لیے علماء کی اکثریت اسی کو ترجیح دیتی ہے، جبکہ خراسان والی روایت کو بطور تائیدی روایت پیش کیا جاتا ہے، حتمی اور بنیادی دلیل کے طور پر نہیں۔
احادیث میں مذکور "شام" سے مراد قدیم "بلاد الشام" ہے، جو آج کے دور میں شام، لبنان، اردن اور فلسطین پر مشتمل وسیع خطے کو کہا جاتا تھا — یہ محض موجودہ ملک شام تک محدود نہیں۔ "شام اور عراق کے درمیان" سے مراد وہ سرحدی و صحرائی علاقہ ہے جو آج کل مشرقی شام (جیسے دیرالزور اور الرقہ کے صحرائی حصے) اور مغربی عراق (صوبہ الانبار) کے درمیان واقع ہے۔ یہ ایک وسیع اور کم آبادی والا صحرائی خطہ ہے، اور علماء نے اسی بنیاد پر اس علاقے کی نشاندہی کی ہے، تاہم قرآن و حدیث کسی مخصوص جدید سرحدی نقطے کا تعین نہیں کرتے۔
یہود اصفہان کی پیروی
صحیح مسلم کی ایک روایت میں یہ تفصیل ملتی ہے کہ دجال کے ساتھ ایک بڑی تعداد میں یہود شامل ہوں گے، جو خاص لباس زیب تن کیے ہوں گے۔
اصفہان (Isfahan) ایران کا ایک مشہور اور تاریخی شہر ہے، جو آج بھی اسی نام سے موجود ہے اور ایران کے صوبہ اصفہان کا مرکز ہے۔ یہ شہر قدیم زمانے سے لے کر آج تک مسلسل "اصفہان" ہی کہلاتا رہا ہے — قرونِ وسطیٰ میں یہ علم و تہذیب کا بڑا مرکز رہا اور صفوی دور میں ایران کا دارالحکومت بھی رہا۔ چونکہ یہ شہر تاریخی طور پر ایک بڑی یہودی آبادی کا مرکز بھی رہا ہے، اسی لیے حدیث میں اس کا خاص طور پر ذکر ہوا۔
حدیث — ستر ہزار یہود اصفہان
یہ حدیث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دجال کا فتنہ محض ایک فرد کا فتنہ نہیں ہو گا بلکہ ایک منظم پیروکاروں کے گروہ کے ساتھ ہو گا۔ تاہم اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ آج کے کسی خاص گروہ یا قوم کو من مانے طور پر اس پیشگوئی پر منطبق کر دیا جائے، درست طرزِ عمل نہیں — کیونکہ یہ ایک مستقبل کا مخصوص واقعہ ہے جس کی علامات نبی ﷺ نے واضح طور پر بیان فرمائی ہیں، اور اس کا اطلاق صرف اسی وقت ممکن ہے جب دجال حقیقتاً ظاہر ہو۔
ظہور سے پہلے تین سال کی سخت خشک سالی
حدیث نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ، جو دجال کے موضوع پر سب سے تفصیلی اور جامع حدیث ہے، اس میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ دجال کے ظہور سے پہلے تین سخت سال آئیں گے جن میں قحط اور خشک سالی ہو گی۔
حدیث — تین سالوں کی تفصیل
روایات میں یہ تفصیل بھی ملتی ہے کہ ان تین سالوں میں سے پہلے سال آسمان بارش کا ایک تہائی حصہ روک لے گا اور زمین پیداوار کا ایک تہائی حصہ روک لے گی، دوسرے سال دو تہائی، اور تیسرے سال مکمل بارش اور پیداوار رک جائے گی، یہاں تک کہ جانور بھوک سے مر جائیں گے۔ اس تفصیل والی روایت کی سند پر بعض محدثین نے کلام کیا ہے، اس لیے اسے احتیاط کے ساتھ نقل کیا جانا چاہیے اور اسے حتمی طور پر "یہی علامت ہے" کہہ کر موجودہ دور کے کسی قحط پر فٹ نہیں کرنا چاہیے۔
زمین پر قیام کی مدت — چالیس دن کا راز
دجال زمین پر چالیس دن قیام کرے گا، لیکن ان چالیس دنوں کی نوعیت غیر معمولی ہو گی — ہر دن برابر نہیں ہو گا۔
حدیث — چالیس دن کی تفصیل
حدیث — لمبے دنوں میں نمازوں کا اندازہ
اس حدیث سے ایک اہم فقہی اصول بھی نکلتا ہے: غیر معمولی حالات میں بھی نماز کو اس کے صحیح اوقات کے اندازے کے مطابق ادا کرنا لازم ہے، نماز کو ترک یا موخر نہیں کیا جائے گا محض اس وجہ سے کہ دن کی طوالت معمول سے مختلف ہے۔
دجال مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا
احادیث میں یہ خوشخبری بھی موجود ہے کہ دجال زمین کے اکثر حصوں میں فساد پھیلائے گا، لیکن مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو سکے گا، کیونکہ ان دونوں مقدس شہروں کی حفاظت پر فرشتے مامور ہوں گے۔
حدیث — فرشتوں کا پہرہ
روایات میں یہ بھی ہے کہ جب دجال مدینہ منورہ کے قریب پہنچے گا تو مدینہ تین بار زلزلے سے ہلے گا، جس کے نتیجے میں شہر کے تمام منافق اور کمزور ایمان والے لوگ نکل کر دجال سے جا ملیں گے، اور مدینہ صرف مخلص مؤمنین کے لیے خالص رہ جائے گا۔
دجال کے فتنے کی نوعیت
دجال کا سب سے بڑا خطرہ اس کی جسمانی طاقت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے دی گئی آزمائشی صلاحیتیں ہوں گی، جن سے وہ کمزور ایمان والوں کو دھوکہ دے گا۔
حدیث — آسمان و زمین پر کنٹرول کا دعویٰ
بارش اور فصل کا کنٹرول
لوگوں کو آزمانے کے لیے حکم دینے پر بارش اور پیداوار کا ظاہری کنٹرول۔
خزانوں کا تعاقب
زمین کے خزانے شہد کی مکھیوں کی طرح اس کی پیروی کریں گے۔
جنت و جہنم کا الٹ دعویٰ
جسے وہ "جنت" کہے گا وہ حقیقت میں جہنم ہو گا، اور اس کے برعکس بھی۔
ایک شخص کو زندہ کرنے کا دعویٰ
ایک نوجوان کو قتل کر کے دوبارہ زندہ کرنے کا مظاہرہ کرے گا۔
یہ تمام مظاہر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مخصوص آزمائش ہوں گے، حقیقی خدائی طاقت نہیں — جیسا کہ پہلی قسط میں گزرا کہ نبی کریم ﷺ نے خود اس کی کانی آنکھ کو اس کے جھوٹے دعوے کی سب سے بڑی دلیل قرار دیا۔
عصر حاضر — تاریخ کا تعین نہ کرنے کی تاکید
آج کے دور میں کئی مبلغین اور سوشل میڈیا پیجز دجال کے ظہور کی مخصوص تاریخیں یا سال بتاتے ہیں، حالانکہ خود نبی کریم ﷺ نے قیامت کی نشانیوں کا علم غیب میں سے قرار دیا اور کبھی تاریخ کا تعین نہیں فرمایا۔
قرآنی آیت — علمِ قیامت اللہ کے پاس ہے
لہٰذا اس سیریز کا مقصد کبھی بھی تاریخ کا تعین کرنا یا خوف پیدا کرنا نہیں، بلکہ نبی کریم ﷺ کی بتائی ہوئی نشانیوں سے آگاہی حاصل کرنا ہے تاکہ اگر وہ وقت آئے تو مسلمان دھوکے میں نہ آئیں۔ خشک سالی، فتنوں کا پھیلاؤ یا کوئی بھی موجودہ واقعہ دیکھ کر یہ دعویٰ کرنا کہ "دجال کا زمانہ آ چکا ہے" — نبی ﷺ کے طرزِ عمل کے خلاف ہے، جیسا کہ ہم نے پہلی قسط میں ابن صیاد کے واقعے میں دیکھا کہ خود آپ ﷺ نے بھی احتیاط اور توقف اختیار فرمایا۔
- نشانیوں کو پہچانیں، لیکن تاریخ کا تعین کرنے سے گریز کریں۔
- سورۃ الکہف کی پہلی دس آیات یاد رکھیں اور ان پر عمل کریں۔
- ہر نماز کے بعد دجال کے فتنے سے پناہ مانگنے کی دعا پڑھیں۔
- غیر مستند سوشل میڈیا دعووں پر یقین کرنے کے بجائے مستند علماء سے رجوع کریں۔
Dar Ul Huda Academy
Learn Quran Online with Qualified Tutors
FREE
TRIAL
Limited-time offer — start your free trial class today