قرض اتارنے کی تمام مسنون دعائیں Qarz Utarne ki Dua — Allahumma Akfini bi Halalika aur Mazeed Duaen
قرض کا بوجھ انسان کی نیند اور سکون دونوں چھین لیتا ہے، اور خود نبی کریم ﷺ بھی قرض کے بوجھ سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے۔ اس مضمون میں ہم قرض سے متعلق ہر وہ دعا شامل کر رہے ہیں جو صحیح یا حسن درجے کی معتبر احادیث سے ثابت ہے — کوئی بھی مستند دعا چھوڑی نہیں گئی — اور ساتھ ہی ان مشہور مگر غیر ثابت روایات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو عوام میں رائج ہیں۔
- سب سے مشہور دعا — "اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ" (allahumma akfini)
- نبی کریم ﷺ کی روزانہ کی جامع دعا — قرض کے بوجھ سے پناہ
- نماز میں تشہد کے بعد کی دعا
- نبی کریم ﷺ کا قرض سے اتنی کثرت سے پناہ مانگنے کا سبب
- مشہور مگر غیر ثابت روایات — ایک ضروری وضاحت
- قرض کی ادائیگی سے متعلق چند اہم مسائل
- عملی تجاویز — دعا کے ساتھ تدبیر
- خلاصہ — مکمل جائزہ
- عصر حاضر — قرض سے حفاظت کا پیغام
سب سے مشہور دعا — "اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ"
Sab se mashhoor dua — "Allahumma akfini bi halalika an haramika"یہ دعا اپنی جامعیت اور عظیم فضیلت کی وجہ سے قرض سے نجات کی دعاؤں میں سب سے زیادہ مشہور ہے۔ اس کا پس منظر ایک نہایت دلچسپ واقعہ ہے۔
واقعہ — حضرت علی رضی اللہ عنہ اور مکاتب غلام
ایک مکاتب غلام (وہ غلام جس نے آزادی کے لیے اپنے مالک سے معاہدہ کیا ہو) حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ وہ اپنی رقم ادا کرنے سے قاصر ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ کلمات نہ سکھاؤں جو نبی کریم ﷺ نے مجھے سکھائے تھے؟ اگر تم پر پہاڑ (کوہِ صِیر) کے برابر بھی قرض ہو، تو اللہ تعالیٰ اسے ادا کروا دے گا۔
یہ دعا محض قرض کی رقم مانگنے کی دعا نہیں، بلکہ اس میں ایک گہری حکمت ہے: انسان اللہ سے حلال ذریعے سے کفایت اور بے نیازی مانگتا ہے، تاکہ وہ حرام یا ناجائز طریقوں کی طرف مجبور نہ ہو۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اسے محض ایک مالی دعا سے بڑھ کر روحانی اور اخلاقی تربیت کا ذریعہ بھی بناتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی روزانہ کی جامع دعا — قرض کے بوجھ سے پناہ
Nabi kareem ﷺ ki rozana ki jame dua — qarz ke bojh se panahنبی کریم ﷺ ایک نہایت جامع دعا اکثر پڑھا کرتے تھے، جس میں کئی مشکلات سے پناہ مانگی گئی ہے، جن میں سے ایک قرض کا بوجھ بھی ہے۔
یہ دعا نبی کریم ﷺ کے روزمرہ معمول کا حصہ تھی، اور اس میں "ضَلَعِ الدَّيْنِ" (قرض کا بوجھ) کا خاص طور پر ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ قرض ایک ایسی مشکل ہے جس سے حفاظت کے لیے باقاعدہ دعا کرنی چاہیے۔
نماز میں تشہد کے بعد کی دعا
Namaz mein tashahhud ke baad ki dua — salam se pehleنبی کریم ﷺ نماز کے آخری تشہد میں، سلام پھیرنے سے پہلے، یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ یہ دعا نماز کے اندر پڑھنے کے لیے مخصوص ہے، اور اسے قرض سے نجات کے سب سے مؤکد اعمال میں شمار کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ نماز جیسی عظیم عبادت کا حصہ ہے۔
نبی کریم ﷺ کا قرض سے اتنی کثرت سے پناہ مانگنے کا سبب
Nabi kareem ﷺ ka qarz se itni kasrat se panah mangne ka sababصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کہ آپ ﷺ اتنی کثرت سے قرض سے پناہ کیوں مانگتے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے وجہ بیان فرمائی۔
یہ حدیث بتاتی ہے کہ قرض کا خطرہ صرف مالی نہیں بلکہ اخلاقی اور دینی بھی ہے — قرض کا بوجھ انسان کو جھوٹ بولنے اور وعدہ خلافی جیسے گناہوں کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے پناہ مانگنے کی کثرت فرمائی، اور امت کو بھی یہی تعلیم دی۔
مشہور مگر غیر ثابت روایات — ایک ضروری وضاحت
Mashhoor magar ghair sabit riwayaat — zaroori wazahatسوشل میڈیا اور زبانی روایات میں قرض سے نجات کے لیے کئی مخصوص "وظائف" مشہور ہیں، جن کی حقیقت جاننا ضروری ہے۔
مخصوص تعداد میں تلاوت
کسی خاص سورت کو ایک مخصوص تعداد (جیسے 100 یا 313 بار) پڑھنے سے قرض فوری اترنے کا دعویٰ — کسی حدیث میں ایسی تخصیص موجود نہیں۔
خاص تعویذ یا لکھائی
مخصوص الفاظ لکھ کر رکھنے سے قرض اترنے کے دعوے — یہ سب غیر مستند اور خود ساختہ عمل ہیں۔
مخصوص رات کی تخصیص
کسی خاص رات میں یہ دعا پڑھنے سے اثر زیادہ ہونے کا دعویٰ — احادیث میں ایسی کوئی تخصیص نہیں ملتی۔
ثابت شدہ متبادل
اوپر بیان کردہ تین دعائیں — یہی وہ مستند اور کافی عمل ہیں جن پر اعتماد کرنا چاہیے۔
جیسا کہ ہم اپنے دیگر مضامین میں بھی واضح کر چکے ہیں، کسی عمل کو کسی خاص تعداد، وقت یا طریقے کے ساتھ مخصوص کرنا، جب تک اس کی صراحت کسی معتبر حدیث میں نہ ملے، ایک خود ساختہ عمل شمار ہوتا ہے۔ قرض سے نجات کے لیے اوپر بیان کردہ تین دعائیں — کثرت سے پڑھنا، نماز میں شامل کرنا، اور مستقل مزاجی سے دہرانا — ہی نبی کریم ﷺ کا ثابت شدہ اور کافی طریقہ ہے۔
قرض کی ادائیگی سے متعلق چند اہم مسائل
Qarz ki adaigi se mutaliq chand aham masail- قرض کی بروقت ادائیگی نبی کریم ﷺ کی تعلیم کے مطابق ایک اہم دینی ذمہ داری ہے، اور استطاعت کے باوجود ادائیگی میں تاخیر کرنا ظلم شمار کیا گیا ہے۔
- اگر کسی وجہ سے وقت پر ادائیگی ممکن نہ ہو تو قرض خواہ کو بروقت مطلع کرنا اور معذرت کرنا اخلاقی اور دینی تقاضا ہے۔
- غیر ضروری اور فضول خرچی پر مبنی قرض لینے سے حتی الامکان اجتناب کرنا چاہیے۔
- جو شخص نیک نیتی سے قرض ادا کرنے کی کوشش میں ہو، اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرنے کا وعدہ فرماتا ہے، جیسا کہ عمومی طور پر احادیث میں بیان ہوا ہے۔
عملی تجاویز — دعا کے ساتھ تدبیر
Amali tajaweez — dua ke saath tadbeer- روزانہ، خصوصاً نماز کے بعد یا تشہد میں، اوپر بیان کردہ دعائیں باقاعدگی سے پڑھیں۔
- دعا کے ساتھ ساتھ حلال ذرائع سے آمدنی بڑھانے کی عملی کوشش بھی جاری رکھیں۔
- غیر ضروری اخراجات میں کمی کر کے قرض کی ادائیگی کو ترجیح دیں۔
- صدقہ دینے کی عادت برقرار رکھیں، اگرچہ حالات مشکل ہوں، کیونکہ صدقہ رزق میں برکت کا ذریعہ ہے۔
خلاصہ — مکمل جائزہ
Khulasa — mukammal jaizaسب سے مشہور دعا
"اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ..." — سنن ترمذی 3563، حسن غریب۔
روزانہ کی جامع دعا
"اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ..." — صحیح بخاری 6369۔
نماز میں دعا
"اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ" — صحیح بخاری 832۔
غیر ثابت وظائف
مخصوص تعداد، تعویذ یا رات کی تخصیص — کسی حدیث میں موجود نہیں۔
عصر حاضر — قرض سے حفاظت کا پیغام
Asr-e-hazir — qarz se hifazat ka paighaamآج کے دور میں آسان قرضوں اور کریڈٹ کی سہولتوں نے لوگوں کو غیر ضروری قرض لینے کی طرف مائل کر دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ قرض سے حتی الامکان بچنا چاہیے، اور اگر ناگزیر ہو تو دعا، صبر اور مستقل مزاج کوشش کے ساتھ اس سے جلد از جلد نجات حاصل کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سے کی گئی مخلصانہ دعا اور حلال ذریعوں سے کی گئی کوشش، دونوں مل کر ہی اصل حل ہیں۔
Dar Ul Huda Academy
Learn Quran Online with Qualified Tutors
FREE
TRIAL
Limited-time offer — start your free trial class today