تراویح سنت مؤکدہ ہے — فقہ حنفی کی روشنی میں —
🔷 تراویح کی نماز — تعارف
تراویح وہ نماز ہے جو رمضان المبارک کی راتوں میں نماز عشاء کے بعد ادا کی جاتی ہے۔ لفظ "تراویح" عربی لفظ "ترویحہ" کی جمع ہے، جس کے معنی آرام کرنا کے ہیں — کیونکہ صحابہ کرام ہر چار رکعت کے بعد کچھ دیر آرام فرماتے تھے، اسی نسبت سے اس نماز کا نام تراویح مشہور ہو گیا۔
نبی کریم ﷺ نے خود بھی یہ نماز باجماعت ادا فرمائی اور صحابہ کو اس کی ترغیب دی۔ آگے فقہ حنفی کی روشنی میں اس کی صحیح شرعی حیثیت اور رکعات کی تعداد کو تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔
📖 فقہ حنفی میں تراویح کی حیثیت — سنت مؤکدہ
فقہ حنفی کے مطابق تراویح مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے سنت مؤکدہ ہے، یعنی ایسی سنت جس پر نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مستقل اور مسلسل عمل رہا۔ اسے "مستحب" کہنا درست نہیں، کیونکہ سنت مؤکدہ کا درجہ مستحب سے بلند ہے۔
سنت مؤکدہ اور مستحب میں فرق یہ ہے کہ سنت مؤکدہ پر مستقل اور تسلسل کے ساتھ عمل ہوتا ہے اور اسے بلا معقول وجہ چھوڑنا پسندیدہ نہیں، جبکہ مستحب ایک ایسا عمل ہے جس میں تسلسل کی یہ شرط نہیں۔ تراویح پر نبی کریم ﷺ کے دور سے لے کر خلفائے راشدین کے دور تک مستقل عمل رہا، اسی لیے فقہ حنفی اسے سنت مؤکدہ قرار دیتا ہے۔
تراویح سنت مؤکدہ ہے، فرض یا واجب نہیں — لیکن اسے بلا وجہ ترک کرنا بھی پسندیدہ نہیں۔ اسے باجماعت ادا کرنا افضل اور مسنون ہے۔
📜 نبی ﷺ کا تراویح باجماعت پڑھانا اور رک جانا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مسجد میں باجماعت تراویح پڑھائی، لوگوں کی تعداد بڑھتی گئی، اور تیسری یا چوتھی رات آپ ﷺ خود تشریف نہ لائے۔
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تراویح باجماعت ادا فرمائی، اور اسے فرض نہ بنانے میں امت پر رحمت مقصود تھی۔ آپ ﷺ کے وصال کے بعد یہ عمل خلفائے راشدین کے دور میں ایک مستقل اور منظم اجتماعی صورت اختیار کر گیا، جیسا کہ آگے واضح ہوگا۔
🌙 حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور — بیس رکعت کا قیام
نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں تراویح کو ایک امام کی قیادت میں باجماعت اور منظم صورت میں قائم کیا گیا۔
یہ نہایت اہم بات ہے کہ اس دور میں موجود جلیل القدر صحابہ کرام میں سے کسی ایک نے بھی اس تعداد پر اعتراض نہیں کیا — بلکہ سب نے خاموشی اور رضامندی سے اس پر عمل کیا۔ یہی اجتماعی اور غیر متنازعہ عمل (اجماعِ سکوتی) فقہ حنفی میں بیس رکعت تراویح کے سنت مؤکدہ ہونے کی سب سے مستند دلیل ہے۔
⭐ خلفائے راشدین کی سنت کی حجیت
فقہ حنفی کے اصولوں میں خلفائے راشدین کا وہ عمل جس پر صحابہ کرام کا اتفاق ہو، شرعی حجت اور قابلِ تقلید سمجھا جاتا ہے، جیسا کہ خود نبی کریم ﷺ نے اس کی تلقین فرمائی۔
چونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بیس رکعت تراویح کا قیام تمام حاضر صحابہ کی خاموش رضامندی سے قائم ہوا اور کسی نے اس پر نکیر نہیں کی، اس لیے فقہ حنفی کے نزدیک یہ عمل مذکورہ حدیث کی روشنی میں مکمل شرعی حجیت رکھتا ہے۔
⚖️ دیگر مذاہب کے دلائل اور فقہ حنفی کے جوابات
بعض حضرات آٹھ رکعت تراویح کے قائل ہیں اور اس کے لیے کچھ دلائل پیش کرتے ہیں۔ ذیل میں ان دلائل اور فقہ حنفی کے مطابق ان کے جوابات دیے جا رہے ہیں۔
🔸 دلیل نمبر 1 — نبی ﷺ کی انفرادی رات کی نماز کی روایت
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت سے استدلال کیا جاتا ہے جس میں نبی کریم ﷺ کی رات کی نماز کو گیارہ رکعت (آٹھ نفل اور تین وتر) بیان کیا گیا ہے، اور اسی بنیاد پر تراویح کو بھی آٹھ رکعت تک محدود سمجھا جاتا ہے۔
یہ روایت نبی کریم ﷺ کی ذاتی اور انفرادی تہجد کی نماز کے بارے میں ہے، جو سال بھر جاری رہنے والا معمول تھا۔ اس کا تعلق رمضان کی مخصوص باجماعت تراویح سے نہیں جو بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک الگ اور منظم اجتماعی صورت میں قائم ہوئی۔ ایک انفرادی نفل عبادت کی تعداد کو اجتماعی تراویح پر منطبق کرنا درست اصولی استدلال نہیں۔
🔸 دلیل نمبر 2 — صرف نبوی نص پر انحصار کا اصول
کچھ حضرات کا اصول یہ ہے کہ رکعات کی تعداد جیسے امور میں صرف نبی کریم ﷺ کے واضح قول یا فعل کو حجت مانا جائے، آپ ﷺ کے بعد کے دور کے عمل کو نہیں۔
اصولِ فقہ میں خلفائے راشدین کا وہ اجتماعی اور غیر متنازعہ عمل جس پر تمام حاضر صحابہ کا اتفاق ہو، سنت کے درجے میں شمار ہوتا ہے، جیسا کہ اوپر مذکور حدیث سے ثابت ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ اقدام کسی نئے عمل کا اضافہ نہیں تھا بلکہ نبی کریم ﷺ کے دور میں موجود تراویح کو ایک منظم اور مستقل اجتماعی شکل دینا تھا۔
🔸 دلیل نمبر 3 — روایات کی سند پر اعتراض
بعض حضرات بیس رکعت والی روایت کی سند اور ثبوت پر کلام کرتے ہیں۔
بیس رکعت کی روایت متعدد مستقل کتب (السنن الکبریٰ للبیہقی، مصنف ابن ابی شیبہ) میں مختلف اسناد سے منقول ہے، جو ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں۔ مزید یہ کہ صدیوں تک امت کا عملی تعامل بھی اسی تعداد پر رہا ہے، جو محض ایک روایت پر انحصار نہیں بلکہ امت کے مجموعی اور متواتر عمل کی دلیل ہے۔
🌿 خلاصہ اور نصیحت
فقہ حنفی کی رو سے تراویح سنت مؤکدہ ہے، اور بیس رکعت پر ادا کرنا نبی کریم ﷺ کے عمل کی بنیاد پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور خلفائے راشدین کے دور میں تمام صحابہ کرام کے متفقہ اور غیر متنازعہ عمل سے ثابت ہے۔
اصل مقصد رمضان کی راتوں کو قیام، تلاوت اور ذکر سے زندہ کرنا ہے۔ تراویح کو خشوع، اخلاص اور تسلسل کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی راتوں کی قدر کرنے اور تراویح کو نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین کے طریقے کے مطابق خلوص کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Dar Ul Huda Academy
Learn Quran Online with Qualified Tutors
FREE
TRIAL
Limited-time offer — start your free trial class today