علی بنات کی زندگی سے حاصل ہونے والے 5 قیمتی اسباق
آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے نوجوان مسلم بزنس مین علی بنات (Ali Banat) کی کہانی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ وہ ایک ایسے امیر ترین شخص تھے جن کے پاس دنیا کی ہر آسائش موجود تھی— قیمتی گاڑیاں، برانڈڈ ملبوسات اور کروڑوں کا بزنس۔ لیکن جب 2015 میں انہیں معلوم ہوا کہ انہیں چوتھے اسٹیج کا کینسر ہے اور ان کے پاس زندگی کے چند مہینے باقی ہیں، تو ان کی دنیا بدل گئی۔
علی بنات نے اپنی موت سے پہلے اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں وقف کر دیا اور افریقہ کے غریب بچوں کے لیے MATW Project کی بنیاد رکھی۔ ان کی زندگی اور موت پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایمان افروز ترغیب ہے۔ آئیے ان کی زندگی سے حاصل ہونے والے 5 بڑے اسباق پر غور کرتے ہیں۔
1۔ کینسر ایک بیماری نہیں، بلکہ اللہ کا تحفہ تھا
جب عام طور پر کسی کو معلوم ہو کہ اسے کینسر جیسی جان لیوا بیماری ہے، تو وہ مایوس ہو جاتا ہے۔ لیکن علی بنات مرحوم نے اپنے ایک مشہور ویڈیو انٹرویو میں فرمایا تھا کہ "کینسر میرے لیے اللہ کا ایک خوبصورت تحفہ (Gift) ہے"۔
ان کا ماننا تھا کہ اس بیماری نے انہیں بدلنے، گناہوں سے توبہ کرنے اور آخرت کی تیاری کا موقع دیا، ورنہ وہ دنیا کی رنگینیوں میں کھوئے ہوئے تھے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مومن کے لیے اللہ کی طرف سے آنے والی ہر آزمائش میں کوئی نہ کوئی حکمت اور خیر چھپی ہوتی ہے۔
2۔ دنیاوی مال و دولت کی کوئی حقیقت نہیں
علی بنات کے پاس دنیا کی مہنگی ترین کاریں (جیسے Ferrari)، لاکھوں مالیت کے برانڈڈ جوتے اور دنیاوی جاہ و جلال موجود تھا۔ لیکن کینسر کی تشخیص کے بعد انہوں نے اپنے ہاتھوں سے ان تمام چیزوں کو بیچ کر غریبوں میں بانٹ دیا۔
انہوں نے سکھایا کہ جب انسان موت کے قریب پہنچتا ہے، تو دنیا کی قیمتی سے قیمتی چیز بھی اس کے لیے مٹی کے برابر ہو جاتی ہے۔ اصل دولت وہ ہے جو آپ اپنے آگے آخرت کے بینک میں جمع کرواتے ہیں۔
علی بنات کا قول: "میں اپنی زندگی کی آخری گھڑیوں میں اپنے مہنگے جوتوں یا گاڑیوں کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا تھا۔ یہ چیزیں آپ کو قبر میں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتیں۔"
3۔ صدقہ جاریہ اصل سرمایہ ہے (MATW Project)
علی بنات نے اپنی دولت سے افریقہ میں یتیم بچوں کی کفالت، بیواؤں کے لیے گھر، اسکول اور مساجد کی تعمیر کے لیے MATW Project شروع کیا۔ انہوں نے مرنے سے پہلے اپنے مال کو اس طرح استعمال کیا کہ وہ ان کی موت کے بعد بھی ان کے لیے نیکیاں کمانے کا ذریعہ بن رہا ہے۔
آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں، لیکن لاکھوں یتیم بچے ان کے قائم کردہ ادارے سے فیض یاب ہو رہے ہیں، جو ان کے لیے قبر میں مسلسل صدقہ جاریہ بن رہا ہے۔
4۔ موت کا وقت طے ہے، تیاری ابھی سے کریں
ڈاکٹروں نے علی بنات کو صرف 7 مہینے کی مہلت دی تھی، لیکن وہ اللہ کے حکم سے مزید 3 سال تک زندہ رہے تاکہ اپنا مشن پورا کر سکیں۔ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ زندگی اور موت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ اس کا آخری وقت کب ائے گا۔
ہمیں کل پر توبہ چھوڑنے کے بجائے، آج ہی سے اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ سانسوں کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔
5۔ مسکراتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونا
علی بنات کی موت کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ تھی کہ جب ان کا انتقال ہوا، تو ان کے چہرے پر ایک پرسکون مسکراہٹ تھی۔ انہوں نے موت کو ایک خوف کے طور پر نہیں، بلکہ اپنے محبوب حقیقی (اللہ تعالی) سے ملنے کا ذریعہ سمجھا کیونکہ انہوں نے اپنی آخرت سنوار لی تھی۔
اگر ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہمارا خاتمہ بالخیر ہو اور موت کے وقت ہمارے چہروں پر اطمینان ہو، تو ہمیں اپنی زندگیوں کو اللہ کے احکامات کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
💎 مزید پڑھیں: رزق اور مال میں برکت کے طریقے
اگر آپ بھی اپنے مال و دولت اور روزی میں برکت چاہتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ میں کثرت سے صدقہ و خیرات کر سکیں، تو ہماری یہ خاص پوسٹ ضرور پڑھیں جس میں نبوی اعمال بیان کیے گئے ہیں۔
👉 رزق میں برکت کے نبوی اعمال پڑھیںDar Ul Huda Academy
Learn Quran Online with Qualified Tutors
FREE
TRIAL
Limited-time offer — start your free trial class today