مقدمہ: اسلام میں عورت کا مقام اور حدودِ شرعیہ
شریعتِ اسلامیہ میں لفظ "لعنت" (Curse) کا ایک خاص اور انتہائی سنگین مفہوم ہے۔ لعنت کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کی رحمت، شفقت اور مغفرت کے دائرے سے دور پھینک دیا جائے اور اسے ابلیس کی طرح اپنی پناہ سے محروم کر دیا جائے۔ یہ بات ہر مسلمان کے لیے لرزہ خیز ہونی چاہیے، کیونکہ جس انسان پر کائنات کے مالک کی لعنت ہو جائے، اس کی دنیا اور آخرت دونوں برباد ہو جاتی ہیں۔
یقیناً اسلام ہی وہ واحد دینِ فطرت ہے جس نے جاہلیت کی تاریکیوں کو چاک کر کے خواتین کے رتبے، حقوق، اور وقار کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچایا۔ جہاں عورت کو بوجھ سمجھ کر زندہ دفن کر دیا جاتا تھا، وہاں اسلام نے اسے ماں کے روپ میں جنت کی ضمانت، بیٹی کے روپ میں رحمت کا پروانہ، اور بیوی کے روپ میں نصف ایمان کا تحفظ عطا فرمایا۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبوی ﷺ میں خواتین کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کے حقوق کی ادائیگی پر جتنا زور دیا گیا ہے، اس کی مثال دنیا کے کسی دوسرے مذہب یا نظام میں نہیں ملتی۔
تاہم، شریعت کا یہ اصول ہے کہ جہاں حقوق زیادہ ہوتے ہیں، وہاں ذمہ داریاں اور حدود بھی اتنی ہی سخت ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خواتین کو معاشرے کی عفت، حیا اور اخلاقیات کا مرکز بنایا ہے۔ اگر ایک عورت گمراہی کا شکار ہو جائے تو پوری نسل تباہ ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے امت کی خواتین کو ان فتنوں اور گناہوں سے خاص طور پر خبردار فرمایا جو بظاہر فیشن یا معمولی کام نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ انسان کو جہنم کے گڑھے میں دھکیل دیتے ہیں۔ درج ذیل میں ہم ان 10 بڑے گناہوں کا تفصیلی، علمی اور فقہی جائزہ لیں گے جن کی وجہ سے ایک عورت ملعونہ (اللہ کی رحمت سے دور) ٹھہرتی ہے:
جسم کے کسی بھی حصے کی جلد کو سوئی یا کسی تیز اوزار سے زخمی کر کے اس میں سرمہ، سیاہی یا کوئی بھی رنگ بھرنا تاکہ جلد پر مستقل نقش و نگار بن جائیں، اسے اسلام میں "وشم" (Tattoo) کہا جاتا ہے۔ جدید دور میں یہ فیشن کی شکل اختیار کر چکا ہے، لیکن شرعی اعتبار سے یہ کبیرہ گناہ ہے۔
شرعی حکمت اور ممانعت کی وجہ: اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس بہترین صورت پر پیدا کیا ہے، اس میں بلاوجہ تبدیلی کرنا دراصل شیطان کے اس چیلنج کو پورا کرنا ہے جو اس نے اللہ کو دیا تھا کہ "میں تیری مخلوق کی صورتوں کو بدل دوں گا" (سورۃ النساء)۔ اس گناہ میں ٹیٹو بنانے والی (آرٹسٹ) اور بنوانے والی خاتون، دونوں پر برابر کی لعنت کی گئی ہے۔
خوبصورتی اور فیشن کے نام پر بھنووں (Eyebrows) کے بالوں کو اکھاڑنا، انہیں کٹوانا، یا دھاگے (Threading) کے ذریعے انہیں بہت زیادہ باریک اور کمان دار بنانا امتِ مسلمہ کی خواتین میں عام ہو چکا ہے۔ شریعت میں اس عمل کو "نمص" کہا جاتا ہے۔
معاشرتی و نفسیاتی اثرات: یہ عمل عورت کے اندر مصنوعی پن اور نمائش کی خواہش کو ابھارتا ہے۔ شریعت حیا اور سادگی کو پسند کرتی ہے۔ قدرتی چہرے کو بگاڑ کر مصنوعی حسن کی تلاش دراصل اللہ کی کاریگری پر عدم اطمینان کا اظہار ہے۔
عرب کے دورِ جاہلیت میں یہ فیشن تھا کہ خواتین جوان اور خوبصورت نظر آنے کے لیے اپنے سامنے کے دانتوں کو ریتی سے رگڑ کر ان کے درمیان باریک جگہ یا فاصلہ بناتی تھیں، کیونکہ اس زمانے میں دانتوں کا فاصلہ دوشیزگی اور حسن کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ آج کے دور میں بھی کاسمیٹک ڈینٹسٹری کے ذریعے ایسے آپریشن کروائے جاتے ہیں۔
اپنے بالوں کو زیادہ لمبا، گھنا یا خوبصورت دکھانے کے لیے ان میں کسی دوسرے انسان کے بال یا مصنوعی فائبر کے بال شامل کرنا (جسے "وصل" کہا جاتا ہے) سخت ممنوع ہے۔ آج کل پارلرز میں ہیئر ایکسٹینشنز اور وگز کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے۔
ممانعت کی شرعی وجہ: اس عمل میں سراسر دھوکہ اور فریب شامل ہے۔ دیکھنے والے کو یہ تاثر ملتا ہے کہ خاتون کے اپنے بال بہت طویل اور خوبصورت ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ اسلام ہر معاملے میں سچائی اور شفافیت کا حکم دیتا ہے۔
اسلامی خاندانی نظام میں شوہر کو گھر کا سربراہ بنایا گیا ہے تاکہ نظم و ضبط قائم رہے۔ اگر کوئی عورت بغیر کسی شرعی اور طبی عذر (جیسے بیماری یا ایامِ مخصوصہ) کے اپنے شوہر کی جائز جنسی و ازدواجی خواہش کو ٹھکراتی ہے اور شوہر اس ناراضگی کی حالت میں سو جاتا ہے، تو وہ عورت شدید گناہ گار ہوتی ہے۔
معاشرتی فتنہ: جب بیوی شوہر کی جائز ضرورت کو پورا نہیں کرتی، تو معاشرے میں بدکاری، نظر کی آوارگی اور طلاق کے فتنے جنم لیتے ہیں۔ بیوی کا یہ عمل پورے خاندانی سکون کو برباد کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت دونوں کی جسمانی اور نفسیاتی ساخت الگ بنائی ہے اور دونوں کے دائرہ کار اور لباس کا انداز بھی الگ رکھا ہے۔ جب کوئی خاتون مردانہ لباس پہنتی ہے، مردوں کی طرح بال کٹواتی ہے، یا گفتگو اور چال ڈھال میں مردانہ انداز اپناتی ہے، تو وہ فطرتِ انسانی کے خلاف جنگ کرتی ہے۔
شریعت نے خواتین کے مزاج میں موجود نرمی اور جذباتی پن کی وجہ سے انہیں قبرستان جانے سے روکا ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب وہاں جا کر وہ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیں، بلند آواز سے روئیں، یا وہاں مردوں کا اختلاط اور بے پردگی ہو۔
کسی عزیز کی وفات پر جاہلیت کے طریقے کے مطابق چیخ و پکار کرنا، مرنے والے کی خوبیاں مبالغے سے بیان کر کے رونا، اپنے چہرے کو پیٹنا، بال نوچنا یا کپڑے پھاڑنا "نوحہ خوانی" कहलाता ہے۔ یہ عمل اللہ کی تقدیر پر اعتراض کے مترادف ہے۔
1. حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: "رسول اللہ ﷺ نے نوحہ خوانی کرنے والی عورت اور اس کا نوحہ دلچسپی سے سننے والی عورت پر لعنت کی ہے۔" [ابو داؤد]
2. حضرت ابو عمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: "اللہ کے رسول ﷺ نے اس عورت پر لعنت کی جو مصیبت کے وقت اپنے چہرے کو نوچے اور اپنا گریبان پھاڑے ۔" [ابن ماجہ]
3. حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "نوحہ کرنے والی عورت اگر توبہ کیے بغیر مر گئی، تو قیامت کے دن اسے گندھک کا کرتا پہنایا جائے گا۔" [مسلم]
📚 [صحیح مسلم: 2033 | سنن ابو داؤد: 3128 | سنن ابن ماجہ: 1585]جب کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے، تو وہ اس پر حرام ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص پہلے شوہر کے لیے راستہ صاف کرنے کی نیت سے (پلاننگ کے تحت) ایک رات یا چند دنوں کے لیے اس عورت سے نکاح کرے اور پھر طلاق دے دے، تو اسے "حلالہ" کہا جاتا ہے۔ یہ عمل شریعت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
"کاسیات عاریات" کا مطلب ہے وہ عورتیں جو بظاہر جسم پر کپڑے تو پہنتی ہیں، لیکن وہ کپڑے اتنے باریک یا چست (Tight) ہوتے ہیں کہ جسم کے اعضاء کی بناوٹ صاف واضح ہوتی ہے۔ ایسی عورتیں خود بھی گمراہ ہوتی ہیں اور معاشرے کو بھی فحاشی کی طرف دھکیلتی ہیں۔
خلاصہ کلام: اے امتِ مسلمہ کی خواتین! اپنے پروردگار کی طرف لوٹ آؤ
میری قابلِ احترام ماؤں اور بہنوں! یہ دنیا صرف چند روزہ اور عارضی امتحان گاہ ہے۔ یہاں کا فیشن اور لوگوں کو متاثر کرنے کی یہ دوڑ سب یہیں خاک میں مل جائے گی، لیکن جو زندگی مستقل اور ہمیشہ رہنے والی ہے، وہ آخرت کی زندگی ہے۔ شیطان خوبصورتی کے نام پر حیا کی چادر چھین لینا چاہتا ہے تاکہ وہ آپ کو بھی اپنے ساتھ جہنم کا ایندھن بنا سکے۔
سید الانبیاء ﷺ کا فرمانِ عالی شان یاد رکھیں: "اے خواتین کی جماعت! صدقہ کثرت سے کیا کرو اور استغفار (معافی) بہت مانگا کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں کثرت تمہاری ہی دیکھی ہے۔" [صحیح البخاری: 304]
اللہ تعالیٰ ہماری تمام بہنوں کو عفت، حیا، اور صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!
Dar Ul Huda Academy
Learn Quran Online with Qualified Tutors
FREE
TRIAL
Limited-time offer — start your free trial class today