حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور دجال کا انجام صحیح احادیث کی روشنی میں مکمل تفصیل — قسط چہارم
پہلی قسط میں دجال کے جسمانی حلیے پر، دوسری قسط میں اس کے ظہور کی جگہ، وقت اور فتنے کی نوعیت پر، اور تیسری قسط میں حدیثِ تمیم داری کے ذریعے اس کے جزیرے میں قید ہونے کی تفصیل پر بات ہوئی۔ آج کی قسط، اس سیریز کی سب سے اہم اور خوش کن قسط ہے: اس میں ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول، دجال کے قتل، یاجوج ماجوج کے انجام اور زمین پر آنے والی برکت کے دور کو صحیح احادیث کی روشنی میں تفصیل سے بیان کریں گے۔
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول کب اور کیوں ہو گا
- نزول کی جگہ — منارہ بیضاء، دمشق کے مشرق میں
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صورت اور ہیئتِ نزول
- امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام — امامت کا مسئلہ
- دجال کا انجام — باب لُد پر قتل
- یاجوج ماجوج کا خروج اور ان کی ہلاکت
- زمین کی برکت اور خوشحالی کا دور
- صلیب کا توڑنا، خنزیر کا خاتمہ اور جزیہ کا خاتمہ
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی، شادی اور وفات
- اس قسط سے حاصل ہونے والے اہم نکات
- عصر حاضر — ایمان اور امید کا پیغام
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول کب اور کیوں ہو گا
گزشتہ اقساط میں ہم نے دیکھا کہ دجال چالیس دن زمین پر فساد پھیلائے گا، مکہ اور مدینہ کے سوا ہر جگہ اس کا زور ہو گا۔ عین اس وقت جب مسلمانوں کی ایک جماعت دجال کے مقابلے میں سخت آزمائش میں ہو گی، اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو براہِ راست آسمان سے زمین پر نازل فرمائے گا — یہ نزول اس امت پر اللہ کی خاص رحمت اور دجال کے فتنے کے خاتمے کا آغاز ہو گا۔
یہ عقیدہ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مارا نہیں بلکہ آسمان پر اٹھا لیا، اور وہ قربِ قیامت دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے، اہلِ سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے، جس کی بنیاد قرآن مجید کی آیات اور متعدد متواتر احادیث پر ہے۔ ان کا نزول کوئی نئی نبوت نہیں بلکہ نبی کریم ﷺ کی امت کے ایک فرد اور تابع کی حیثیت سے ہو گا، جیسا کہ آگے وضاحت آئے گی۔
قرآن مجید کی شہادت — یہود کی ناکام سازش اور رفعِ الیٰ السماء
واضح رہے کہ قرآن مجید میں قتل کی نفی کا تعلق یہود کی اس ناکام سازش سے ہے جو انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کے لیے کی تھی — اللہ تعالیٰ نے انہیں ناکام بنا کر اپنے نبی کو صحیح سالم آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ یہی وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو قیامت کے قریب دوبارہ زمین پر تشریف لائیں گے۔
نزول کی جگہ — منارہ بیضاء، دمشق کے مشرق میں
حدیث نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ، جو ہم پہلی اور دوسری قسط میں کئی بار ذکر کر چکے ہیں، اسی حدیث کے آخری حصے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی جگہ کی صراحت ملتی ہے۔
حدیث — منارہ بیضاء پر نزول
دمشق آج بھی شام کا دارالحکومت اور اسی نام سے موجود ایک تاریخی شہر ہے۔ علماء نے واضح کیا ہے کہ حدیث میں مذکور "منارہ بیضاء" کسی خاص، متعین اور آج پہچانی جا سکنے والی عمارت کی طرف اشارہ نہیں بلکہ اس کی اصل نشاندہی خود اس وقت ہو گی جب یہ واقعہ پیش آئے گا۔ موجودہ دور میں دمشق کی کسی مسجد یا مینار کو حتمی طور پر "یہی وہ منارہ ہے" کہنا محض قیاس ہے، جیسا کہ ہم گزشتہ اقساط میں بھی جغرافیائی قیاس آرائی سے بار بار خبردار کر چکے ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صورت اور ہیئتِ نزول
نزول کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہیئت نہایت باوقار اور معجزانہ ہو گی — وہ دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے نازل ہوں گے۔
حدیث — نزول کی ہیئت
اسی حدیث میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ کوئی کافر ان کے سانس کی خوشبو پا کر زندہ نہیں رہ سکے گا، اور ان کا سانس وہاں تک پہنچے گا جہاں تک ان کی نظر جائے گی — یعنی ان کا محض زمین پر آنا ہی دجال کے فتنے کے خاتمے کی نوید ہو گا۔
حدیث — شبِ معراج میں نبی کریم ﷺ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھنا
یہ حلیہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہے، جبکہ اسی حدیث میں آگے دجال کا حلیہ الگ بیان ہوا ہے: گھنگھریالے بال اور دائیں آنکھ سے کانا — جسے ہم پہلی قسط میں تفصیل سے بیان کر چکے ہیں۔ دونوں کے حلیے میں یہ نمایاں فرق خود احادیث میں موجود ہے، تاکہ امت کسی التباس کا شکار نہ ہو۔
امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام — امامت کا مسئلہ
احادیث میں ایک نہایت لطیف اور ایمان افروز واقعہ بیان ہوا ہے: جس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے، اس وقت مسلمانوں کی امامت امام مہدی رضی اللہ عنہ کر رہے ہوں گے، اور نماز کا وقت ہو گا۔
حدیث — عیسیٰ علیہ السلام کا امام مہدی کی اقتدا میں نماز پڑھنا
یہ حدیث اس امت کی عظمت کی ایک واضح دلیل ہے: خود اللہ کے نبی و رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام، امام مہدی کی اقتدا میں نماز پڑھیں گے، اور خود امامت کی پیشکش کو یہ کہہ کر مسترد فرمائیں گے کہ یہ امت اپنے امیر کی خود اہلیت رکھتی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول نئی شریعت لانے کے لیے نہیں بلکہ نبی کریم ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کی پیروی اور تجدید کے لیے ہو گا۔
دجال کا انجام — باب لُد پر قتل
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی خبر سنتے ہی دجال بھاگنا شروع کر دے گا، لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کا تعاقب کریں گے اور بالآخر اسے ایک مقام پر جا لیں گے جسے "باب لُد" (لُد کا دروازہ) کہا گیا ہے۔
حدیث — باب لُد پر تعاقب اور قتل
"لُد" (Lydda) فلسطین کا ایک قدیم اور تاریخی قصبہ ہے، جو آج بھی اسی علاقے میں موجود ہے۔ بعض روایات میں یہ تفصیل بھی ملتی ہے کہ دجال جب اپنے خاتمے کو دیکھے گا تو پانی کی طرح پگھلنے لگے گا — اس تفصیل والی روایت پر بعض محدثین نے سند کے اعتبار سے کلام کیا ہے، اس لیے اسے احتیاط کے ساتھ ذکر کیا جانا چاہیے، جبکہ باب لُد پر قتل کی بنیادی حدیث خود صحیح مسلم کی مضبوط ترین روایت ہے۔
دجال کے قتل کے ساتھ ہی اس کا فتنہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا، اور جو یہود اس کے ساتھی بنے تھے، ان کی بھی رسوائی اور شکست ہو گی — چنانچہ متعدد احادیث میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ اس دور میں مسلمان ان یہودیوں کے خلاف غالب آئیں گے جنہوں نے دجال کا ساتھ دیا تھا۔
یاجوج ماجوج کا خروج اور ان کی ہلاکت
دجال کے خاتمے کے فوراً بعد ایک اور بڑی آزمائش کا آغاز ہو گا: اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وحی کریں گے کہ یاجوج ماجوج کو کھول دیا جا رہا ہے، اور کسی میں ان سے لڑنے کی طاقت نہیں — لہٰذا مومنوں کو کوہِ طور کی طرف پناہ لینے کا حکم دیا جائے گا۔
حدیث — یاجوج ماجوج کے خروج کی خبر
یاجوج ماجوج کی کثرت اور ان کی طاقت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ روایات میں ہے کہ وہ جھیل طبریہ کا سارا پانی پی کر خشک کر دیں گے۔ جب مسلمان انتہائی تنگی میں مبتلا ہو جائیں گے، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی ان کی ہلاکت کے لیے دعا کریں گے۔
حدیث — یاجوج ماجوج کی دعا سے ہلاکت
ان کی لاشوں کی کثرت اور بدبو سے زمین بھر جائے گی، مسلمان اللہ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ اونٹ کی گردنوں جیسی چونچوں والے پرندے بھیجے گا جو ان لاشوں کو اٹھا کر جہاں اللہ چاہے گا وہاں پھینک دیں گے، اور پھر ایک زبردست بارش زمین کو دھو کر صاف اور شیشے کی مانند چمکدار کر دے گی۔
زمین کی برکت اور خوشحالی کا دور
یاجوج ماجوج کے خاتمے اور زمین کی صفائی کے بعد ایک ایسا دور شروع ہو گا جس کی نظیر انسانی تاریخ میں کبھی نہیں ملی — زمین کی برکت، پیداوار اور امن اپنی انتہا کو پہنچ جائیں گے۔
بارش سے زمین کی صفائی اور تازگی
ایک ایسی بارش ہو گی جس سے کوئی مکان یا خیمہ محفوظ نہ رہے گا، وہ زمین کو دھو کر آئینے کی طرح صاف کر دے گی۔
زمین کی حیرت انگیز پیداوار
زمین کو حکم دیا جائے گا کہ اپنی برکت اور پھل نکالے، یہاں تک کہ ایک انار اتنا بڑا ہو گا کہ لوگوں کی ایک جماعت اسے کھائے اور اس کے چھلکے کے سائے میں بیٹھے۔
دودھ اور مال میں برکت
ایک اونٹنی کا دودھ لوگوں کی ایک بڑی جماعت کے لیے کافی ہو گا، اور اسی طرح گائے اور بکری کے دودھ میں بھی غیر معمولی برکت ہو گی۔
حدیث — انار اور دودھ کی برکت
اس دور میں زمین پر ایسا امن اور اطمینان ہو گا کہ کوئی کسی سے دشمنی یا حسد نہیں کرے گا۔ روایات میں یہ بھی ہے کہ اس خوشحالی کے بعد ایک خوشگوار ٹھنڈی ہوا چلے گی جو ہر مومن کی روح قبض کر لے گی، اور صرف بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جن پر قیامت قائم ہو گی — یہ تفصیل قیامت کی دیگر بڑی نشانیوں سے متعلق ہے جسے ہم آئندہ کسی قسط میں الگ سے زیرِ بحث لا سکتے ہیں۔
صلیب کا توڑنا، خنزیر کا خاتمہ اور جزیہ کا خاتمہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ وہ ایک عادل حَکَم اور منصف حکمران کی حیثیت سے کچھ خاص کام سرانجام دیں گے، جو ان کے دورِ حکومت کی نمایاں پہچان ہوں گے۔
حدیث — عادل حَکَم کی حیثیت سے کام
محدثین اور شارحین نے وضاحت کی ہے کہ "صلیب توڑنا" سے مراد وہ عقیدہ اور علامت باطل قرار دینا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت یا صلیب پر موت کے جھوٹے عقیدے سے جڑی ہے، اور "جزیہ ختم کرنا" سے مراد یہ ہے کہ اس دور میں اسلام کے سوا کوئی دین قبول نہیں کیا جائے گا — یعنی اہلِ کتاب کے سامنے صرف اسلام لانے یا انکار کی صورت رہ جائے گی، جزیہ دے کر مذہب باقی رکھنے کی گنجائش ختم ہو جائے گی، کیونکہ خود دین کی حقانیت واضح ثبوت کے ساتھ سامنے آ چکی ہو گی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی، شادی اور وفات
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمین پر قیام کی مدت اور ان کے آخری انجام کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں، جن میں سے بعض کی سند مضبوط ہے اور بعض کمزور، اس لیے ان کا بیان احتیاط کے ساتھ ضروری ہے۔
سنن ابو داؤد کی ایک روایت میں دجال کے تذکرے کے ضمن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سات سال زمین پر قیام کا ذکر ملتا ہے، جبکہ بعض دیگر روایات میں مختلف مدتیں بیان ہوئی ہیں۔ چونکہ ان روایات کی سند بخاری و مسلم کی طرح اعلیٰ درجے کی نہیں، اس لیے علماء نے ان کی تعیین میں احتیاط برتی ہے اور کسی ایک مدت کو حتمی طور پر بیان نہیں کیا۔ اصل اور متفقہ بات یہ ہے کہ وہ کچھ عرصہ زمین پر بحیثیت عادل حکمران قیام فرمائیں گے، پھر ان کی طبعی وفات ہو گی۔
روایات میں یہ بھی ملتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نکاح کریں گے اور اولاد بھی ہو گی — یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ایک عام انسان کی طرح فطری زندگی گزاریں گے، نہ کہ کسی خدائی یا مافوق البشر حیثیت میں۔ ان کی وفات کے بعد مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے، جیسا کہ کسی بھی نیک انسان کی وفات پر کیا جاتا ہے۔
بعض روایات میں یہ تفصیل ملتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تدفین نبی کریم ﷺ کے روضہ مبارک کے قریب ہو گی — یہ روایت سنن ترمذی میں مذکور ہے، لیکن امام ترمذی سمیت بعض محدثین نے اسے سنداً کمزور یا "غریب" قرار دیا ہے۔ اس لیے اسے یقینی عقیدے کے طور پر نہیں بلکہ ایک منقول روایت کے طور پر بیان کیا جانا مناسب ہے، جیسا کہ ہم دوسری قسط میں "خراسان" والی روایت کے ساتھ بھی یہی احتیاطی اصول اپنا چکے ہیں۔
اس قسط سے حاصل ہونے والے اہم نکات
نزول آسمان سے
حضرت عیسیٰ علیہ السلام منارہ بیضاء، دمشق کے مشرق میں، فرشتوں کے سہارے نازل ہوں گے۔
اقتدا امام مہدی کی
وہ نئی شریعت نہیں لائیں گے بلکہ امام مہدی کی اقتدا میں نماز پڑھ کر امتِ محمدیہ کی عظمت ثابت کریں گے۔
دجال کا خاتمہ
باب لُد پر دجال کو قتل کر کے اس کے فتنے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں گے۔
زمین کی برکت
یاجوج ماجوج کے خاتمے کے بعد زمین پر ایسی خوشحالی آئے گی جس کی مثال پہلے کبھی نہ ملی۔
عصر حاضر — ایمان اور امید کا پیغام
دجال کی سیریز کا یہ چوتھا اور اہم موڑ ہمیں ایک نہایت اہم سبق دیتا ہے: چاہے فتنہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کا وعدہ حق ہے۔ دجال کا فتنہ، خواہ وہ کتنا ہی ہولناک اور غیر معمولی کیوں نہ ہو، بالآخر حق کے سامنے ناکام ہو گا اور زمین ظلم و فساد کے بعد عدل و برکت سے بھر جائے گی۔
آج کے دور میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ان تمام تفصیلات کو ایمان کی مضبوطی، امید اور نیک اعمال کے جذبے کے ساتھ پڑھیں، نہ کہ خوف اور مایوسی کے ساتھ۔ نہ ہی کسی جدید واقعے، شخصیت یا مقام کو دیکھ کر یہ دعویٰ کرنا مناسب ہے کہ "یہی وہ منارہ بیضاء ہے" یا "یہی باب لُد ہے" — کیونکہ نبی کریم ﷺ نے جو کچھ بتایا وہ اپنی جگہ واضح ہے، اور اس کی حتمی تعیین اسی وقت ممکن ہو گی جب اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ وقت آئے گا۔
- ان احادیث کو ایمان کے ساتھ تسلیم کریں، تحریف یا مبالغہ آرائی سے گریز کریں۔
- جدید مقامات یا واقعات کو زبردستی ان نشانیوں پر منطبق نہ کریں۔
- سورۃ الکہف کی پہلی دس آیات یاد رکھیں، جو دجال کے فتنے سے حفاظت کا ذریعہ ہیں۔
- ہر حال میں اللہ کی رحمت سے امید رکھیں — حق بالآخر غالب آتا ہے۔
Dar Ul Huda Academy
Learn Quran Online with Qualified Tutors
FREE
TRIAL
Limited-time offer — start your free trial class today