خدمتِ حجاج و معتمرین — سعادتِ دارین کا ذریعہ —
🕋 حج — وحدتِ امت کا عظیم مظہر
حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک عظیم رکن ہے، اور دنیا میں شاید ہی کوئی اور عبادت ایسی ہو جو مسلمانوں کی وحدت کو اس طرح عملی شکل میں ظاہر کرتی ہو۔ دنیا کے کونے کونے سے آئے ہوئے لاکھوں مسلمان ایک ہی لباس میں ملبوس ہو کر، ایک ہی زبان میں، ایک ہی وقت میں اپنے خالق کے حضور کھڑے ہوتے ہیں — نہ کوئی امیر بڑا، نہ کوئی غریب چھوٹا۔
یہی منظر ہے جو حج کو محض ایک سفر نہیں بلکہ ایک عالمی اجتماعِ ایمان بنا دیتا ہے، جہاں رنگ، نسل اور زبان کے تمام فرق مٹ جاتے ہیں اور صرف ایک ہی پہچان باقی رہتی ہے — بندگیِ الٰہی۔
💚 حرمین کی محبت — ہر مسلمان کے دل کی پکار
بیت اللہ کی زیارت ہر مسلمان کی دلی خواہش ہوتی ہے، اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے زندگی بھر اسی آرزو میں دن گزارے کہ کبھی کعبہ کے سنہری جالوں اور سبز گنبد کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔ سینکڑوں میل دور بیٹھ کر مدینہ منورہ کی گلیوں کا تصور کر کے درود و سلام پڑھنے والوں کی تعداد کسی شمار میں نہیں۔
جو شخص حرمین شریفین کے سفر پر روانہ ہوتا ہے، اس کے اپنے ہی اسے دنیا کا سب سے خوش نصیب انسان سمجھتے ہیں۔ ایئرپورٹ پر رخصت کرتے وقت آنکھوں میں آنسو، گلے میں بے ساختہ بانہیں، اور دل سے ایک ہی التجا — کہ اللہ کے حضور ہمارے لیے بھی دعا کر دینا۔
حرمین شریفین سے محبت کی کوئی پیمائش ممکن نہیں۔ یہ وہ زمین ہے جہاں وحی کا نزول ہوا، جہاں ہر لمحہ رحمتِ الٰہی برستی ہے، اور جس کی برابری کائنات کا کوئی خطہ نہیں کر سکتا۔
📜 سقایہ و رفادہ — حاجیوں کی خدمت کی تاریخی روایت
عرب معاشرے میں زمانہ قدیم سے ہی حاجیوں کی خدمت کو بہت بڑی عزت اور سعادت کا درجہ دیا جاتا تھا، کیونکہ حاجی اللہ کے مہمان سمجھے جاتے تھے، اور اللہ کے مہمانوں کی خدمت کرنے والا تمام مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب گردانا جاتا تھا۔
نبی کریم ﷺ کے جدِ امجد حضرت قصی بن کلاب نے مکہ مکرمہ میں کعبہ کے انتظامات کو منظم کیا اور حاجیوں کی خدمت کے لیے باقاعدہ ذمہ داریاں تقسیم کیں — جن میں "سدانہ" (کعبہ کی حفاظت و نگرانی)، "سقایہ" (حاجیوں کے لیے پانی کا انتظام)، اور "رفادہ" (نادار حاجیوں کے لیے کھانے کا انتظام) شامل تھیں۔
یہ ذمہ داری بعد میں نبی کریم ﷺ کے پردادا حضرت ہاشم بن عبد مناف کو منتقل ہوئی۔ روایات کے مطابق، قحط کے دنوں میں حضرت ہاشم خود روٹی توڑ کر اسے گوشت کے شوربے میں ملا کر حاجیوں اور فقیروں کو کھلاتے — اسی وجہ سے انہیں "ہاشم" (روٹی توڑنے والا) کا لقب ملا، جو ان کی فیاضی کی یاد دلاتا ہے۔
💧 عبدالمطلب اور زمزم کی سعادت
حضرت ہاشم کے بعد ان کے بھائی حضرت مطلب نے یہ ذمہ داری سنبھالی، اور پھر یہ سعادت نبی کریم ﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب کے حصے میں آئی۔ یہ وہی عبدالمطلب ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمزم کے کنویں کی دوبارہ دریافت کا اعزاز بخشا — وہ مبارک چشمہ جو حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے دور سے زمین میں دفن ہو گیا تھا۔
عبدالمطلب نے زمزم کے پانی کی فراہمی کا انتظام سنبھال کر حاجیوں کی پیاس بجھانے کی ذمہ داری اپنے سر لی — اور یہی وہ روایت تھی جو نسل در نسل ان کے خانوادے میں عزت کا باعث بنی۔ مکہ میں پانی کی شدید کمی کے باوجود، بنو ہاشم نے اس مشکل کام کو اپنی ذمہ داری بنا کر حاجیوں کی خدمت کو ترجیح دی۔
🌟 حاجیوں کی خدمت کا اجر
اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کے حاجیوں کی خدمت کو بہت بڑا اجر عطا فرمایا ہے۔ مہمان نوازی ویسے بھی اسلام میں ایک عظیم خوبی ہے، مگر اللہ کے گھر کے مہمانوں کی خدمت اس سے بھی کئی درجے بلند مقام رکھتی ہے۔
سب سے محبوب خدمت
اللہ کے مہمانوں کی خدمت کرنے والا اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہوتا ہے۔
عزت کا ذریعہ
بنو ہاشم اور قریش کو دنیا و آخرت کی عزت اسی خدمت کی برکت سے ملی۔
زمزم کی برکت
عبدالمطلب کی زمزم کی خدمت آج بھی لاکھوں حاجیوں کے لیے رحمت کا ذریعہ ہے۔
صدقۂ جاریہ
حاجیوں کی سہولت کے لیے کیا گیا کام، نسلوں تک جاری رہنے والا اجر بن جاتا ہے۔
🤲 آج ہم کیا کر سکتے ہیں؟
آج ہم میں سے بہت سے لوگ بنو ہاشم کی طرح زمزم کی سبیل نہیں لگا سکتے، مگر خدمتِ حجاج کا دروازہ آج بھی کھلا ہے۔ یہ خدمت کئی صورتوں میں ممکن ہے — کسی حاجی کے سفر کے انتظامات میں مدد کرنا، حج پر جانے والے کسی رشتہ دار یا پڑوسی کی دیکھ بھال میں ہاتھ بٹانا، ان کے لیے دعا کرنا، یا اپنی استطاعت کے مطابق مالی تعاون کرنا۔
- حاجیوں کے لیے دعا کریں: حج کے دنوں میں خاص طور پر ان کی قبولیت اور حفاظت کی دعا کریں۔
- مالی تعاون کریں: اگر کوئی غریب حاجی سفر کے اخراجات پورے نہ کر سکے تو اس کی مدد کرنا بنو ہاشم کی سنت زندہ کرنا ہے۔
- گھر والوں کا خیال رکھیں: جن کے گھر کا کوئی فرد حج پر گیا ہو، ان کے پیچھے رہ جانے والوں کا خیال رکھنا بھی خدمت کا حصہ ہے۔
- حج کے آداب سکھائیں: جو لوگ پہلی بار حج کا ارادہ رکھتے ہوں، انہیں مناسک اور آداب سمجھانا ایک خاموش مگر بڑی خدمت ہے۔
❓ عام سوالات — خدمتِ حجاج سے متعلق
سقایہ کا مطلب ہے حاجیوں کو پانی فراہم کرنا، اور رفادہ کا مطلب ہے نادار و ضرورت مند حاجیوں کے لیے کھانے کا انتظام کرنا — یہ دونوں ذمہ داریاں زمانہ قدیم سے بنو ہاشم کے سپرد تھیں۔
روایات کے مطابق قحط کے زمانے میں انہوں نے خود روٹی توڑ کر شوربے میں ملا کر حاجیوں کو کھلائی، اسی فیاضی کی وجہ سے انہیں "ہاشم" یعنی روٹی توڑنے والا کہا گیا۔
نبی کریم ﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے زمزم کا کنواں دوبارہ کھودا اور دریافت کیا، جو پہلے زمانوں میں زمین میں دفن ہو گیا تھا۔
دعا، مالی تعاون، حج پر جانے والوں کے گھر والوں کا خیال رکھنا، یا حج کے آداب سکھانا — یہ سب آج کے دور میں خدمتِ حجاج کی صورتیں ہیں۔
Dar Ul Huda Academy
Learn Quran Online with Qualified Tutors
FREE
TRIAL
Limited-time offer — start your free trial class today