رمضان اور ہماری زمین — کھانے کی بربادی اور پلاسٹک آلودگی
رمضان میں خوراک کے ضیاع اور پلاسٹک آلودگی کے اسباب، قرآن و سنت کی روشنی میں ان کا حل، اور زمین کی حفاظت کا عملی طریقہ۔
🔷 رمضان میں اعتدال — قرآن کا حکم
رمضان المبارک عاجزی، صبر اور اعتدال کا مہینہ ہے، نہ کہ فضول خرچی اور بے احتیاطی کا۔ مگر افسوس کہ بہت سے گھرانوں میں رمضان کے دوران افطار کی میز کھانوں سے بھر جاتی ہے، اور ہماری آنکھیں ہماری بھوک سے زیادہ کھانا مانگ لیتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ کا طریقہ اس کے بالکل برعکس تھا — کم کھانا، مگر دل سے شکر گزار ہونا۔
"اے آدم کی اولاد! ہر نماز کے وقت اپنی زینت اختیار کرو، اور کھاؤ اور پیو مگر حد سے زیادہ نہ بڑھو — بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔"
📚 سورۃ الاعراف: آیت 31یہ آیت واضح کرتی ہے کہ کھانے پینے میں اعتدال خود ایک عبادت ہے۔ جب پیٹ بھر جانے کے باوجود ہم کھاتے رہتے ہیں، تو اس کا اثر ہماری تراویح کی نماز اور اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کی کیفیت پر بھی پڑتا ہے — جسم سستی کا شکار ہو جاتا ہے اور دل کی توجہ کم ہو جاتی ہے۔
🌙 خوراک کی بربادی — رمضان کا ایک بڑا مسئلہ
رمضان کے دوران دنیا بھر میں سب سے زیادہ خوراک ضائع ہوتی ہے۔ افطار کے لیے ضرورت سے کئی گنا زیادہ کھانا تیار کیا جاتا ہے، اور جو حصہ استعمال نہیں ہوتا، وہ اکثر کوڑے میں پھینک دیا جاتا ہے — جو کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری ہے۔
✨ بچ جانے والے کھانے کا مسنون حل
اسلام میں خوراک کو ضائع کرنا سختی سے ناپسندیدہ عمل ہے۔ علمائے کرام نے اس بارے میں واضح رہنمائی دی ہے کہ بچا ہوا کھانا کس طرح استعمال کیا جائے:
شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "روٹی، گوشت اور دیگر اقسام کے کھانے کو کوڑے دان میں پھینکنا جائز نہیں۔ بلکہ اس کے بجائے انہیں ان لوگوں کو دینا چاہیے جن کو اس کی ضرورت ہو، یا کسی ایسی جگہ رکھ دینا چاہیے جہاں اسے بے ادبی کا سامنا نہ ہو — اس امید پر کہ کسی ضرورت مند یا اس کے جانور اسے استعمال کر لیں، یا کوئی پرندہ اسے کھا لے۔"
📗 فتاویٰ شیخ ابن باز رحمہ اللہ♻️ پلاسٹک آلودگی — ایک خاموش مسئلہ
رمضان کے دوران ایک اور اہم مگر کم توجہ پانے والا مسئلہ پلاسٹک آلودگی کا ہے۔ افطار کی دعوتوں اور اجتماعات میں ڈسپوزایبل (ایک بار استعمال ہونے والے) برتنوں کا استعمال تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے، جو ہماری زمین پر طویل المدتی نقصان دہ اثرات چھوڑتا ہے۔
ہماری زمین پلاسٹک سے بھری جا رہی ہے، اور حکومتیں و ادارے اس کے نقصان دہ پھیلاؤ پر قابو پانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ مساجد اور رفاہی مراکز میں جب بڑے اجتماعی افطار دوبارہ شروع ہوتے ہیں، تو یہ ہمارے لیے ایک موقع ہے کہ ہم پہلے سے سوچ سمجھ کر پلاسٹک کا متبادل منصوبہ تیار کریں۔
📋 رمضان میں زمین کی حفاظت کا عملی طریقہ
زمین کی حفاظت دراصل اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ ذیل میں چند آسان اور عملی قدم بتائے گئے ہیں جو رمضان کے دوران خوراک اور پلاسٹک کے ضیاع کو کم کر سکتے ہیں۔
پہلے سے منصوبہ بندی کریں
رمضان شروع ہونے سے پہلے ہفتہ وار کھانے کی منصوبہ بندی بنائیں تاکہ ضرورت سے زیادہ خریداری نہ ہو۔
ضرورت کے مطابق پکائیں
گھر کے افراد کی تعداد کے حساب سے کھانا تیار کریں، دکھاوے کے لیے زیادہ نہ بنائیں۔
بچا ہوا کھانا محفوظ کریں
فریزر کا استعمال کریں، اور بچا ہوا کھانا سحری یا اگلے دن کے افطار کے لیے رکھیں۔
ضرورت مندوں میں تقسیم کریں
اضافی کھانا پڑوسیوں، غریبوں یا مسجد کے دستر خوان پر بھیجیں — یہ صدقہ بھی بنتا ہے۔
دوبارہ استعمال ہونے والے برتن لائیں
اجتماعی افطار میں اپنے برتن، چمچ اور پانی کی بوتل ساتھ لے جانے کی عادت بنائیں۔
پلاسٹک کے متبادل اختیار کریں
کاغذ یا دوبارہ قابلِ استعمال اشیاء کو ڈسپوزایبل پلاسٹک پر ترجیح دیں۔
❓ عام سوالات — خوراک اور ماحول سے متعلق
اگر کھانا خراب ہو جائے تو کیا اسے پھینکنا جائز ہے؟
ہاں — اگر کھانا واقعی خراب ہو چکا ہو اور کھانے کے قابل نہ رہے، تو اسے پھینکنے میں کوئی حرج نہیں۔ ممانعت صرف اس کھانے کے بارے میں ہے جو ابھی استعمال کے قابل ہو۔
کیا پلیٹ میں موجود سارا کھانا ختم کرنا ضروری ہے؟
نہیں — ضرورت سے زیادہ کھانا کھانا بھی پسندیدہ نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ شروع میں ہی اتنی مقدار لی جائے جتنی واقعی ضرورت ہو، تاکہ کھانا ضائع ہونے کی نوبت ہی نہ آئے۔
کیا پلاسٹک کے برتن استعمال کرنا گناہ ہے؟
خود پلاسٹک کا استعمال گناہ نہیں، مگر اسراف اور ماحول کو نقصان پہنچانے سے اجتناب اسلامی اخلاقیات کا حصہ ہے۔ جہاں ممکن ہو، دوبارہ قابلِ استعمال اشیاء کو ترجیح دینا بہتر عمل ہے۔
اجتماعی افطار میں خوراک کا ضیاع کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟
منتظمین پہلے سے شرکاء کی تعداد کا تخمینہ لگائیں، کھانا ضرورت کے مطابق تیار کریں، اور بچ جانے والا کھانا فوراً ضرورت مندوں میں تقسیم کرنے کا انتظام رکھیں۔
"اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔" (سورۃ البقرہ: 201)
آمین یا رب العالمین۔
Dar Ul Huda Academy
Learn Quran Online with Qualified Tutors
FREE
TRIAL
Limited-time offer — start your free trial class today