امام مہدی رضی اللہ عنہ — تعارف، نشانیاں اور دورِ خلافت صحیح و حسن احادیث کی روشنی میں مکمل تفصیل — قسط پنجم
پہلی قسط میں دجال کے جسمانی حلیے پر، دوسری قسط میں اس کے ظہور کی جگہ اور وقت پر، تیسری قسط میں حدیثِ تمیم داری پر، اور چوتھی قسط میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور دجال کے انجام پر تفصیل سے بات ہوئی۔ ان تمام واقعات میں ایک نام بار بار سامنے آیا: امام مہدی رضی اللہ عنہ، جن کی اقتدا میں خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے نماز پڑھی۔ آج کی قسط میں ہم اسی مبارک شخصیت کا تفصیلی تعارف، ان کی نشانیاں اور ان کے دورِ خلافت کو صحیح احادیث کی روشنی میں بیان کریں گے۔
- امام مہدی کون ہیں — ایک بنیادی تعارف
- امام مہدی کا نسب اور نام — نبی کریم ﷺ سے مطابقت
- احادیثِ مہدی کی سند کا مجموعی درجہ
- امام مہدی کا حلیہ اور خصوصیات
- ظہور کی نشانی — خانہ کعبہ میں جبری بیعت
- لشکر کا زمین میں دھنسنا — خسف بالبیداء
- عدل و انصاف کا سنہری دور
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی کا تعلق
- سفیانی کا فتنہ — ایک احتیاطی جائزہ
- دورِ خلافت کی مدت
- عصر حاضر — جھوٹے دعووں سے خبردار رہیں
امام مہدی کون ہیں — ایک بنیادی تعارف
امام مہدی رضی اللہ عنہ آخری زمانے میں پیدا ہونے والی ایک ایسی مبارک شخصیت ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کی رہنمائی اور زمین میں عدل قائم کرنے کے لیے کھڑا فرمائے گا۔ وہ نہ نبی ہوں گے اور نہ ان پر وحی نازل ہو گی، بلکہ وہ نبی کریم ﷺ کی امت کے ایک فرد، ایک نیک اور عادل مسلمان حکمران کی حیثیت سے ظاہر ہوں گے۔ ان کا ظہور اس دور میں ہو گا جب زمین ظلم، فتنوں اور بگاڑ سے بھر چکی ہو گی۔
اہلِ سنت والجماعت کے اکثر علماء اور محدثین کے نزدیک امام مہدی کے ظہور کا عقیدہ ثابت شدہ ہے۔ اگرچہ اس موضوع کی انفرادی احادیث میں سے بعض کی سند حسن اور بعض میں کلام بھی ملتا ہے، لیکن جب ان تمام روایات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو محدثینِ کرام جیسے امام سیوطی اور علامہ محمد بن جعفر الکتانی رحمہما اللہ نے اپنی مستقل تصانیف میں یہ ثابت کیا ہے کہ امام مہدی سے متعلق احادیث اپنے مجموعی معنی میں تواتر کا درجہ رکھتی ہیں، یعنی ان کا مجموعی انکار ممکن نہیں۔
امام مہدی کا نسب اور نام — نبی کریم ﷺ سے مطابقت
احادیث میں امام مہدی کے نام اور نسب کے بارے میں خاص تفصیل بیان کی گئی ہے، جو انہیں کسی بھی جھوٹے دعویدار سے ممتاز کرنے کے لیے ایک اہم معیار ہے۔
حدیث — نام کی مطابقت
یعنی امام مہدی کا نام "محمد" اور والد کا نام "عبداللہ" ہو گا، بالکل اسی طرح جیسے نبی کریم ﷺ کا نام محمد اور والد کا نام عبداللہ تھا۔ اسی طرح ایک اور روایت میں ان کے نسب کی مزید وضاحت ملتی ہے۔
حدیث — نسب کی وضاحت
یعنی امام مہدی نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے ہوں گے — یعنی نبی کریم ﷺ کے نواسوں، حضرت حسن یا حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی نسل سے۔ یہ نسبی خصوصیت ایک اہم پیمانہ ہے جس سے کسی بھی جھوٹے دعویدار کی پہچان ممکن ہے۔
احادیثِ مہدی کی سند کا مجموعی درجہ
یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ امام مہدی سے متعلق کوئی ایک حدیث بھی صحیح بخاری یا صحیح مسلم میں لفظ "مہدی" کے ساتھ صراحتاً موجود نہیں، تاہم ان کے اوصاف، کردار اور بعض واقعات صحیح مسلم کی احادیث میں بغیر نام کے موجود ہیں (جیسے امامتِ عیسیٰ علیہ السلام والی حدیث، جو ہم گزشتہ قسط میں بیان کر چکے ہیں)۔
سنن ابو داؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں "مہدی" کے نام سے مذکور روایات میں سے بیشتر کی سند علماء کے نزدیک حسن ہے، اگرچہ بعض منفرد راویوں پر کلام بھی موجود ہے۔ اسی وجہ سے کچھ معاصر محققین نے انفرادی روایات کی سند میں احتیاط برتی ہے، جبکہ اکثریتِ علماء کے نزدیک ان تمام روایات کا مجموعہ اس عقیدے کے اثبات کے لیے کافی ہے۔ لہٰذا امام مہدی کا ظہور اہلِ سنت کا اصولی عقیدہ ہے، مگر ہر جزئی تفصیل کو اسی درجے کی یقینی صحت کے ساتھ بیان نہیں کیا جانا چاہیے۔
امام مہدی کا حلیہ اور خصوصیات
احادیث میں امام مہدی کے ظاہری حلیے کے بارے میں بھی مختصر مگر واضح اشارے ملتے ہیں۔
حدیث — حلیہ کی تفصیل
یہ حلیہ نہایت سادہ اور عام سا ہے — یعنی امام مہدی کسی خارق العادت یا غیر معمولی جسمانی نشانی کے حامل نہیں ہوں گے، بلکہ ان کی اصل پہچان ان کا نسب، کردار اور زمین میں عدل قائم کرنے کا کام ہو گا، جیسا کہ حدیث کے آخری حصے میں بیان ہوا۔
ظہور کی نشانی — خانہ کعبہ میں جبری بیعت
احادیث کے مطابق امام مہدی کا ظہور کوئی اعلانیہ دعوٰی نہیں ہو گا، بلکہ لوگ خود انہیں تلاش کر کے، بلکہ بعض روایات کے مطابق جبراً، ان سے بیعت کریں گے۔
حدیث — رکن اور مقام کے درمیان بیعت
مفسرینِ حدیث نے اسی روایت کی روشنی میں بیان کیا ہے کہ اس دور میں ایک نیک اور صالح شخص کو، جو دراصل امام مہدی ہوں گے، لوگ خانہ کعبہ کے قریب پا کر ان سے بیعت پر اصرار کریں گے، حالانکہ وہ خود اقتدار کے خواہش مند نہیں ہوں گے — یہ ان کی للٰہیت اور اخلاص کی دلیل ہے۔
لشکر کا زمین میں دھنسنا — خسف بالبیداء
جب امام مہدی سے بیعت ہو جائے گی تو ایک ظالم حکمران کی طرف سے ایک لشکر انہیں ختم کرنے کے لیے مکہ کی طرف روانہ کیا جائے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ اس لشکر کو راستے میں ہی زمین میں دھنسا دے گا۔
حدیث — لشکر کا زمین میں دھنسنا
"بیداء" مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک صحرائی علاقے کا نام ہے۔ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک کھلا معجزہ ہو گا جو امام مہدی کی حقانیت اور بیت اللہ کی حرمت کی حفاظت کی علامت کے طور پر ظاہر ہو گا، اور اسی کے بعد امام مہدی کی حکومت مستحکم ہونا شروع ہو گی۔
عدل و انصاف کا سنہری دور
امام مہدی کے دورِ خلافت کی سب سے نمایاں پہچان زمین پر عدل و انصاف کا قیام اور بے مثال خوشحالی ہو گی۔
مکمل عدل
ہر قسم کے ظلم اور جور کا خاتمہ ہو گا، جیسا کہ حدیث میں "قسطاً و عدلاً" کے الفاظ سے واضح ہے۔
مالی خوشحالی
روایات میں ہے کہ اس دور میں مال کی اتنی فراوانی ہو گی کہ کوئی زکوٰۃ لینے والا نہیں ملے گا۔
امن و سکون
لوگوں کے دلوں سے بغض اور دشمنی ختم ہو جائے گی، ہر طرف اطمینان کی فضا ہو گی۔
دین کی سربلندی
اسلام پر عمل آسان اور غالب ہو گا، اور امتِ مسلمہ کو ایک متحد اور صالح قیادت میسر آئے گی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی کا تعلق
گزشتہ قسط میں ہم تفصیل سے بیان کر چکے ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو اس وقت امام مہدی ہی مسلمانوں کے امیر اور امام ہوں گے، اور نماز کا وقت ہو گا۔
حدیث — امامتِ مہدی کی یاد دہانی
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تعلق باہمی احترام اور دین کی خدمت پر مبنی ہو گا — نہ کہ کسی مقابلے یا تصادم پر۔ دونوں مل کر دجال کے فتنے کے بعد امت کو ایک نئے، پرامن اور عادل دور کی طرف لے جائیں گے۔
سفیانی کا فتنہ — ایک احتیاطی جائزہ
امام مہدی کے موضوع کے ساتھ اکثر "سفیانی" کے نام سے ایک اور شخصیت کا ذکر بھی کیا جاتا ہے، جو بنو امیہ سے تعلق رکھنے والا ایک باغی اور فتنہ پرداز شخص ہو گا اور امام مہدی کی مخالفت کرے گا۔
سفیانی سے متعلق روایات، امام مہدی کی بنیادی احادیث کے برعکس، سنن اربعہ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) میں مستند طور پر موجود نہیں، بلکہ زیادہ تر نعیم بن حماد کی کتاب "الفتن" جیسے کم درجے کے مصادر میں پائی جاتی ہیں، جن میں سے اکثر پر محدثین نے سنداً کلام کیا ہے۔ اسی لیے سفیانی کے واقعے کی جزئیات کو، امام مہدی کے اصل ظہور کے برعکس، یقینی عقیدے کے طور پر بیان نہیں کیا جانا چاہیے، بلکہ اسے ایک منقول اور غیر مؤکد تفصیل کے طور پر ہی سمجھا جانا چاہیے۔
دورِ خلافت کی مدت
امام مہدی کے دورِ حکومت کی مدت کے بارے میں بھی روایات میں فرق پایا جاتا ہے — بعض روایات میں سات سال، بعض میں پانچ اور بعض میں نو سال کا ذکر ملتا ہے۔
یہ تمام روایات سنن ابو داؤد اور ترمذی کی حسن درجے کی احادیث میں مذکور ہیں، لیکن مدت میں اختلاف کی وجہ سے علماء نے کسی ایک مدت کو حتمی طور پر بیان کرنے سے احتیاط برتی ہے۔ اصل اور متفقہ بات یہ ہے کہ امام مہدی کی حکومت ایک متعین، محدود مدت کے لیے ہو گی، جس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دور جاری رہے گا، جیسا کہ ہم گزشتہ قسط میں بیان کر چکے ہیں۔
عصر حاضر — جھوٹے دعووں سے خبردار رہیں
اسلامی تاریخ میں کئی افراد نے وقتاً فوقتاً امام مہدی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے، اور آج کے دور میں بھی سوشل میڈیا پر ایسے دعوے وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں۔ احادیث میں بیان کردہ نشانیاں — نسب کی مطابقت، خانہ کعبہ میں جبری بیعت، لشکر کا زمین میں دھنسنا، اور سب سے بڑھ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول — یہ سب مل کر ایک ایسا مجموعی منظر پیش کرتی ہیں جو کسی ایک فرد کے محض دعوے سے پورا نہیں ہو سکتا۔
لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کسی بھی ایسے دعوے کو، جب تک وہ ان تمام نشانیوں کے ساتھ مکمل طور پر مطابقت نہ رکھتا ہو، مسترد کر دیں اور کسی جذباتی تحریک یا فتنے کا حصہ نہ بنیں۔ امام مہدی کا انتظار ایک ایمانی عقیدہ ہے، نہ کہ کسی سیاسی یا گروہی مقصد کے لیے استعمال ہونے والا آلہ۔
- امام مہدی کے ظہور پر ایمان رکھیں، مگر کسی فردِ واحد کے دعوے پر یقین نہ کریں۔
- نسب، حلیہ اور واقعاتی نشانیوں کو مجموعی طور پر پرکھیں، الگ الگ نہیں۔
- سفیانی جیسی کمزور روایات کو یقینی عقیدے کے طور پر پیش نہ کریں۔
- ہر حال میں نیک اعمال اور تقویٰ پر توجہ رکھیں — یہی ہر دور میں مسلمان کی اصل ذمہ داری ہے۔
Dar Ul Huda Academy
Learn Quran Online with Qualified Tutors
FREE
TRIAL
Limited-time offer — start your free trial class today