قیامت کی بقیہ بڑی نشانیاں دخان، دابۃ الارض، سورج کا مغرب سے طلوع اور تین خسف — قسط ششم
پہلی قسط میں دجال کے جسمانی حلیے پر، دوسری قسط میں اس کے ظہور کی جگہ اور وقت پر، تیسری قسط میں حدیثِ تمیم داری پر، چوتھی قسط میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور دجال کے انجام پر، اور پانچویں قسط میں امام مہدی رضی اللہ عنہ کے تعارف اور دورِ خلافت پر تفصیل سے بات ہوئی۔ اب تک ہم نے قیامت کی جن بڑی نشانیوں کا ذکر کیا وہ تھیں: دجال، عیسیٰ علیہ السلام کا نزول، اور یاجوج ماجوج۔ آج کی قسط میں ہم باقی ماندہ بڑی نشانیوں — دخان، دابۃ الارض، سورج کا مغرب سے طلوع اور زمین کے تین دھنسنے کے واقعات — کو صحیح احادیث کی روشنی میں بیان کریں گے۔
قیامت کی دس بڑی نشانیاں — اصل حدیث
ہماری اس پوری سیریز کی بنیاد دراصل ایک ہی جامع حدیث پر رکھی جا سکتی ہے، جس میں نبی کریم ﷺ نے قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والی دس بڑی نشانیوں کو ایک ساتھ گنوایا۔
حدیث — دس نشانیوں کی فہرست
اس حدیث میں سے دجال، عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور یاجوج ماجوج پر ہم تفصیل سے بات کر چکے ہیں۔ آج باقی چھ نشانیوں کی تفصیل بیان کی جائے گی۔
دخان — دھوئیں کا ظہور
"دخان" کا لفظی معنی دھواں ہے، اور یہ قرآن مجید کی ایک سورت کا نام بھی ہے۔ اس نشانی کے بارے میں خود قرآن مجید میں اشارہ موجود ہے۔
مفسرین کے مابین اس آیت کی تفسیر پر ایک معروف اختلاف پایا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے نزدیک یہ "دخان" ماضی میں، نبی کریم ﷺ کے دور میں، قریش پر پڑنے والے شدید قحط کے دوران رونما ہو چکا ہے، جب بھوک کی شدت سے لوگوں کو آنکھوں کے سامنے دھوئیں جیسی دھندلاہٹ دکھائی دیتی تھی۔ جبکہ اکثر محدثین اور مفسرین، بشمول حدیثِ حذیفہ بن اسید کی روشنی میں، اسے قربِ قیامت کی ایک مستقبل کی علامت مانتے ہیں جو ابھی ظاہر نہیں ہوئی۔ چونکہ حدیثِ مذکورہ صحیح مسلم کی مضبوط ترین روایت ہے، اس لیے یہی موقف زیادہ راجح سمجھا جاتا ہے۔
دخان کی تفصیلی نوعیت — یعنی وہ چالیس دن تک رہے گا، مومنوں کو زکام جیسی کیفیت اور کافروں کو نشے جیسی حالت میں مبتلا کرے گا — یہ تفصیلات کچھ روایات میں ملتی ہیں، لیکن ان کی سند صحیح بخاری و مسلم کے درجے کی مضبوط نہیں، اس لیے انہیں احتیاط کے ساتھ ہی بیان کیا جانا چاہیے۔
دابۃ الارض — زمین سے نکلنے والا جانور
قرآن مجید میں ایک عجیب و غریب مخلوق کا ذکر ہے جو قربِ قیامت زمین سے نکلے گی اور لوگوں سے کلام کرے گی۔
حدیث — دابۃ الارض کی نشانی
روایات میں یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ دابۃ الارض کے پاس حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی مہر ہو گی — عصا سے مومن کے چہرے کو روشن اور مہر سے کافر کے چہرے کو سیاہ کر دے گی، تاکہ لوگوں میں ایمان اور کفر کا فرق ظاہری طور پر نمایاں ہو جائے۔ یہ تفصیل حسن غریب درجے کی روایات میں آئی ہے، جسے قابلِ اعتماد سمجھا جاتا ہے، اگرچہ صحیح بخاری و مسلم کے درجے تک نہیں پہنچتی۔
سورج کا مغرب سے طلوع — سب سے فیصلہ کن نشانی
ان تمام نشانیوں میں سب سے زیادہ فیصلہ کن اور صحیح بخاری و مسلم دونوں سے مضبوط ترین سند کے ساتھ ثابت نشانی، سورج کا مغرب کی سمت سے طلوع ہونا ہے۔
حدیث — سورج کا مغرب سے طلوع اور توبہ کے دروازے کا بند ہونا
یہ نشانی ظاہر ہوتے ہی توبہ اور ایمان لانے کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔ محدثین کے نزدیک یہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ انسان کو توبہ اور نیک اعمال میں کبھی تاخیر نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ جس دن یہ نشانی ظاہر ہو گی، اس دن کے بعد کسی کی توبہ یا نئی نیکی کا کوئی اعتبار نہیں رہے گا۔
زمین کے تین دھنسنے کے واقعات (خسف)
حدیثِ حذیفہ بن اسید میں تین جگہ زمین کے دھنسنے کا ذکر ہوا ہے: مشرق میں، مغرب میں، اور جزیرہ عرب میں۔
خسفِ مشرق
مشرقی خطے میں زمین کا ایک بڑا حصہ دھنس جائے گا — حدیث میں اس کی مزید جزئیات بیان نہیں کی گئیں۔
خسفِ مغرب
مغربی خطے میں بھی اسی نوعیت کا واقعہ پیش آئے گا۔
خسفِ جزیرۃ العرب
خود جزیرہ عرب میں بھی زمین کا دھنسنا واقع ہو گا — یہ ان تین علاقوں میں سے ایک ہے جو خود امتِ مسلمہ کے مرکزی خطے سے متعلق ہے۔
حدیث میں ان تینوں خسف کی جغرافیائی جزئیات یا وقوع کی ترتیب بیان نہیں کی گئی، اس لیے ان کے بارے میں کسی خاص ملک یا شہر کا نام لے کر پیش گوئی کرنا محض قیاس ہو گا۔ نبی کریم ﷺ نے صرف عمومی سمت کی نشاندہی فرمائی، اور یہی وہ حد ہے جس پر اکتفا کیا جانا چاہیے، جیسا کہ ہم اس سیریز میں بار بار واضح کر چکے ہیں۔
یمن سے نکلنے والی آگ
حدیثِ حذیفہ بن اسید کے مطابق ان تمام نشانیوں کے آخر میں ایک آگ ظاہر ہو گی جو یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو ان کے حشر کی جگہ کی طرف ہانک لے جائے گی۔
دیگر روایات میں اس آگ کی مزید تفصیل ملتی ہے — کہ یہ آگ لوگوں کے پیچھے پیچھے چلے گی، جہاں لوگ رات کو پڑاؤ ڈالیں گے وہاں وہ بھی رک جائے گی، اور جہاں وہ صبح آرام کریں گے وہاں بھی ساتھ ٹھہر جائے گی، یہاں تک کہ سب لوگوں کو حشر کی جگہ (شام کی طرف) اکٹھا کر دے گی۔ یہ نشانی گویا قیامت کے قریب ترین لمحے کی علامت ہے، جس کے بعد براہِ راست قیامت کا قیام متوقع ہے۔
نشانیوں کی ترتیب پر علمی اختلاف
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حدیثِ حذیفہ بن اسید میں دس نشانیوں کا ذکر ایک ساتھ کیا گیا ہے، لیکن اس میں یہ صراحت نہیں کہ یہ سب لازمی طور پر اسی ترتیب سے وقوع پذیر ہوں گی جس ترتیب سے حدیث میں بیان ہوئی ہیں۔
محدثین اور شارحینِ حدیث، جیسے امام نووی رحمہ اللہ، نے واضح کیا ہے کہ حدیث میں مذکور ترتیب محض راوی کے بیان کی ترتیب ہو سکتی ہے، ضروری نہیں کہ یہی وقوعی ترتیب بھی ہو۔ دیگر احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دجال، عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور یاجوج ماجوج کا خاتمہ ایک قریبی ترتیب میں ہوں گے، جبکہ دخان، دابۃ الارض، خسف اور سورج کا مغرب سے طلوع، ان کے آگے پیچھے یا انہی کے دوران بھی واقع ہو سکتے ہیں۔ اس موضوع پر حتمی اور یقینی ترتیب بیان کرنا ممکن نہیں، اس لیے علماء نے اس میں احتیاط کو ترجیح دی ہے۔
اس قسط سے حاصل ہونے والے اہم نکات
دخان
مستقبل کی ایک بڑی نشانی، اگرچہ اس کی جزئیات پر تفسیری اختلاف بھی موجود ہے۔
دابۃ الارض
ایمان و کفر میں کھلا امتیاز کرنے والی ایک معجزانہ مخلوق، قرآن و حدیث دونوں سے ثابت۔
سورج کا مغرب سے طلوع
سب سے فیصلہ کن اور صحیح ترین سند سے ثابت نشانی — توبہ کے دروازے کا بند ہونا۔
یمن کی آگ
آخری نشانی جو انسانیت کو حشر کی طرف ہانک لے جائے گی۔
عصر حاضر — توبہ میں جلدی کا پیغام
ان تمام نشانیوں سے جو سب سے بڑا سبق حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ توبہ اور نیک اعمال میں کبھی تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے والی حدیث خود اس بات کی سب سے واضح دلیل ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب ایمان لانا یا توبہ کرنا بےفائدہ ہو جائے گا۔ آج جبکہ توبہ کا دروازہ کھلا ہے، ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی اصلاح میں جلدی کرے، اور کسی نشانی کے ظاہر ہونے کا انتظار کیے بغیر اپنے رب کی طرف رجوع کرے۔
ان نشانیوں کی تفصیلات میں غیر ضروری قیاس آرائی، خوف پھیلانا، یا کسی جدید واقعے کو زبردستی ان پر منطبق کرنا، دونوں ہی رویے نامناسب ہیں۔ ان پر ایمان رکھنا، اپنی اصلاح کرنا، اور اللہ کی رحمت سے امید وابستہ رکھنا — یہی وہ متوازن رویہ ہے جو ایک مسلمان کو اپنانا چاہیے۔
- ان نشانیوں پر ایمان رکھیں، مگر ان کی تعیین میں قیاس آرائی سے گریز کریں۔
- توبہ اور نیک اعمال میں تاخیر نہ کریں، کیونکہ توبہ کا دروازہ کسی بھی وقت بند ہو سکتا ہے۔
- ترتیب یا وقت کے بارے میں حتمی دعوے کرنے سے پرہیز کریں۔
- ان تمام واقعات کو اپنے ایمان کی مضبوطی اور اللہ سے تعلق بڑھانے کا ذریعہ بنائیں۔
Dar Ul Huda Academy
Learn Quran Online with Qualified Tutors
FREE
TRIAL
Limited-time offer — start your free trial class today