صورِ اسرافیل، حشر و نشر اور میدانِ محشر یومِ قیامت کے مناظر — صحیح احادیث کی روشنی میں مکمل تفصیل — قسط ہفتم
پہلی قسط میں دجال کے جسمانی حلیے پر، دوسری قسط میں اس کے ظہور کی جگہ اور وقت پر، تیسری قسط میں حدیثِ تمیم داری پر، چوتھی قسط میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر، پانچویں قسط میں امام مہدی رضی اللہ عنہ پر، اور چھٹی قسط میں دخان، دابۃ الارض اور سورج کے مغرب سے طلوع جیسی بقیہ بڑی نشانیوں پر تفصیل سے بات ہوئی۔ اب جبکہ قیامت کی تمام بڑی نشانیاں ظاہر ہو چکی ہوں گی، آج کی قسط میں ہم خود یومِ قیامت کے حتمی وقوع — صورِ اسرافیل، حشر و نشر، میزان اور پلِ صراط کے مناظر — کو صحیح احادیث کی روشنی میں بیان کریں گے۔
- صورِ اسرافیل — پہلا اور دوسرا نفخہ
- دونوں نفخوں کے درمیان وقفہ
- جسم کی دوبارہ تشکیل — عجب الذنب
- بارش سے دوبارہ زندگی
- میدانِ محشر کا منظر
- سورج کا قریب ہونا اور پسینے کا سمندر
- عرش کا سایہ — سات خوش نصیب لوگ
- میزانِ اعمال
- حوضِ کوثر
- پلِ صراط
- اس قسط سے حاصل ہونے والے اہم نکات
- عصر حاضر — آج ہی سے تیاری کا پیغام
صورِ اسرافیل — پہلا اور دوسرا نفخہ
قیامت کے حتمی وقوع کا آغاز حضرت اسرافیل علیہ السلام کے صور (نرسنگے) پھونکنے سے ہو گا۔ قرآن مجید میں اس کا واضح ذکر ملتا ہے۔
حدیث — اسرافیل علیہ السلام کی آمادگی
پہلے نفخے سے تمام مخلوقات، آسمانوں اور زمین میں موجود ہر جاندار، سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے، ہلاک ہو جائیں گے۔ پھر دوسرے نفخے پر تمام انسان دوبارہ زندہ ہو کر کھڑے ہو جائیں گے — یہی نفخہ حشر و نشر کا آغاز ہو گا۔
دونوں نفخوں کے درمیان وقفہ
دونوں نفخوں کے درمیان ایک وقفہ ہو گا، جس کی مدت کے بارے میں خود نبی کریم ﷺ کے صحابہ نے سوال کیا، لیکن اس کا صحیح اور دیانتدارانہ جواب "علم نہیں" کی صورت میں محفوظ ہے۔
حدیث — چالیس کی مدت کا ابہام
یہ حدیث اس بات کی نہایت خوبصورت مثال ہے کہ صحابہ کرام، جو دین کے سب سے بڑے عالم تھے، غیب کے معاملات میں قیاس آرائی کرنے کے بجائے صاف صاف "مجھے علم نہیں" کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ لہٰذا اس مدت کی صحیح تعیین کے بارے میں کسی بھی جدید دعوے کو حدیث کی روشنی میں غیر مستند سمجھنا چاہیے۔
جسم کی دوبارہ تشکیل — عجب الذنب
اسی حدیث کا تسلسل بتاتا ہے کہ انسان کا پورا جسم زمین میں گل سڑ جائے گا، سوائے ایک چھوٹی سی ہڈی کے، جس سے قیامت کے دن دوبارہ پورا جسم تشکیل دیا جائے گا۔
حدیث — عجب الذنب کی بقا
یہ حدیث اس امکان کی جدید سائنسی توجیہ کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے کہ جسم کے کسی نہایت مخصوص اور محفوظ حصے سے دوبارہ تخلیق ممکن ہے — بہرحال، یہ ایک غیبی حقیقت ہے جسے ہم ایمان کے ساتھ تسلیم کرتے ہیں، سائنسی توجیہات محض ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔
بارش سے دوبارہ زندگی
اسی حدیث میں آگے بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے ایک خاص بارش نازل فرمائے گا جس سے تمام انسان زمین سے دوبارہ اگ آئیں گے، بالکل اسی طرح جیسے بارش کے بعد سبزہ اگتا ہے۔
حدیث — بارش سے دوبارہ اگنا
میدانِ محشر کا منظر
جسم دوبارہ مکمل ہونے کے بعد تمام انسانوں کو ایک ہی میدان میں جمع کیا جائے گا، اور اس اجتماع کی نوعیت نہایت سخت اور شرمناک ہو گی۔
حدیث — ننگے پاؤں، ننگے بدن حشر
نبی کریم ﷺ کا یہ جواب اس دن کی ہولناکی اور شدت کو ظاہر کرتا ہے — اس دن ہر انسان اپنے اعمال کے حساب کی فکر میں اس قدر غرق ہو گا کہ اسے اردگرد کے مناظر کا کوئی احساس تک نہ ہو گا۔ یہ حدیث ہمیں اس دن کی سنگینی کا اندازہ لگانے میں مدد دیتی ہے۔
سورج کا قریب ہونا اور پسینے کا سمندر
میدانِ محشر میں انتظار کی طوالت اور تکلیف میں ایک اور اضافہ سورج کے قریب کیے جانے سے ہو گا۔
حدیث — سورج کا قریب ہونا اور پسینے کی کیفیت
یہ منظر اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس دن کی تکلیف اور شدت ہر انسان کے اپنے اعمال کی نوعیت کے مطابق مختلف ہو گی — جتنے برے اعمال، اتنی ہی زیادہ تکلیف۔
عرش کا سایہ — سات خوش نصیب لوگ
اسی نہایت سخت دن میں، جب سورج قریب اور سایہ نایاب ہو گا، کچھ خوش نصیب لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا۔
حدیث — سات لوگ جنہیں اللہ کا سایہ نصیب ہو گا
میزانِ اعمال
میدانِ محشر میں سب سے اہم مرحلہ ہر انسان کے اعمال کا وزن کیا جانا ہو گا، جس کے لیے اللہ تعالیٰ ترازو قائم فرمائے گا۔
یہ میزان اس دن کے عدل کی سب سے بڑی علامت ہے — کسی کی نیکی یا برائی میں ذرہ برابر کمی بیشی نہیں کی جائے گی، اور ہر عمل کا حساب پورے انصاف کے ساتھ لیا جائے گا۔
حوضِ کوثر
اس طویل اور تکلیف دہ انتظار کے دوران نبی کریم ﷺ کو ایک خاص حوض عطا کیا جائے گا، جہاں سے آپ ﷺ کی امت کے لوگ سیراب ہوں گے۔
احادیث میں حوضِ کوثر کی وسعت، ایلہ اور صنعاء کے درمیانی فاصلے کے برابر، اس کے پانی کے دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھے ہونے کی تفصیل ملتی ہے۔ جو شخص اس حوض سے ایک بار پانی پی لے، اسے پھر کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ یہ نبی کریم ﷺ کی امت کے لیے ایک خاص عزت و اکرام ہے، جس کا ذکر صحیح بخاری و مسلم کی متعدد احادیث میں تواتر کے ساتھ آیا ہے۔
پلِ صراط
حساب و کتاب کے بعد ہر انسان کو جہنم کے اوپر بچھائے گئے ایک پل سے گزرنا ہو گا، جسے "صراط" کہا جاتا ہے۔
حدیث — پلِ صراط کی نوعیت
احادیث میں بیان ہوا ہے کہ لوگ اپنے اعمال کے مطابق اس پل سے گزریں گے — بعض بجلی کی طرح، بعض تیز ہوا کی طرح، بعض تیز گھوڑے کی طرح، بعض دوڑتے ہوئے، بعض چلتے ہوئے، اور بعض رینگتے ہوئے گزریں گے، جبکہ کچھ لوگ اپنے اعمال کی سنگینی کی وجہ سے جہنم میں گر پڑیں گے۔ یہ منظر اس بات کی زبردست یاد دہانی ہے کہ آج کی زندگی میں کیے گئے اعمال ہی اس پل پر ہماری رفتار اور کامیابی کا تعین کریں گے۔
اس قسط سے حاصل ہونے والے اہم نکات
صورِ اسرافیل
دو نفخوں کے ذریعے موت اور دوبارہ زندگی کا آغاز — قرآن و حدیث دونوں سے ثابت۔
میدانِ محشر
سورج کے قریب ہونے اور پسینے کی شدت کا منظر — ہر انسان کے اعمال کے مطابق مختلف تکلیف۔
میزانِ اعمال
مکمل عدل کے ساتھ ہر نیکی و بدی کا وزن، بغیر کسی ظلم کے۔
پلِ صراط
جہنم کے اوپر بچھایا گیا پل، جس سے گزرنے کی رفتار اعمال پر منحصر ہو گی۔
عصر حاضر — آج ہی سے تیاری کا پیغام
دجال کی سیریز کا یہ سفر — جسمانی حلیے سے شروع ہو کر، اس کے ظہور، حدیثِ تمیم داری، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول، امام مہدی کے دورِ خلافت، قیامت کی بقیہ نشانیوں، اور بالآخر یومِ قیامت کے حتمی مناظر تک — ایک ہی مرکزی سبق پر ختم ہوتا ہے: یہ دنیا عارضی ہے، اور اصل کامیابی اس دن کی تیاری میں ہے جب ہر انسان اپنے اعمال کے ساتھ اکیلا اللہ کے سامنے کھڑا ہو گا۔
میدانِ محشر کی شدت، میزان کا عدل، اور پلِ صراط کی نوعیت — یہ سب کچھ ہمیں یہی سکھاتے ہیں کہ نیک اعمال، صدقہ، تنہائی میں اللہ کی یاد، اور اپنے نفس پر قابو — یہی وہ توشہ ہے جو اس دن کام آئے گا۔ آج جبکہ ہمیں مہلت اور صحت حاصل ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو اسی دن کی روشنی میں ترتیب دیں۔
- روزانہ اپنے اعمال کا محاسبہ کریں، جیسے میزان میں تولا جائے گا۔
- خفیہ صدقہ اور تنہائی میں اللہ کی یاد کو معمول بنائیں — عرش کے سائے کا ذریعہ۔
- حوضِ کوثر سے سیراب ہونے کی امید کے ساتھ سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کریں۔
- پلِ صراط پر تیز رفتاری کی نیت سے آج ہی نیک اعمال میں جلدی کریں۔
اس سات قسطوں پر مشتمل سیریز میں ہم نے دجال کے فتنے سے لے کر یومِ قیامت کے حتمی مناظر تک کا سفر طے کیا۔ اگر مستقبل میں کسی اور متعلقہ موضوع — جیسے جنت اور جہنم کی تفصیل — پر قارئین کی دلچسپی ہو تو ان شاء اللہ ایک نئی سیریز کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔
Dar Ul Huda Academy
Learn Quran Online with Qualified Tutors
FREE
TRIAL
Limited-time offer — start your free trial class today